ایس آئی آر مہم -آخری تاریخ میں توسیع کا خیر مقدم -عوام غفلت میں نہ رہیں -عوامی رہنمائی وکوششوں پر بیرسٹر اسد اویسی کو خراج تحسین
19 اور 26 جولائی کو نماز استسقاء میں شرکت کی اپیل -امیر ملت اسلامیہ مولانا حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ کا بیان

حیدرآباد 17- جولائی( اردو لیکس)امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے ایس آئی آر کے عمل میں توسیع کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے اپنے بیان میں مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دہلی، کرناٹک ،پنجاب اور ہماری ریاست تلنگانہ میں ووٹرلسٹوں کی خصوصی مہم نظر ثانی (SIR) کی مدت میں اضافہ کیا ہے جو سبھی کے لیے اطمینان بخش بات ہے انہوں نے کہا کہ اب جب کہ فارم داخل کرنے کی مدت میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 3- اگست 2026ءکر دیا گیا ہے
اس سے سبھی کو مکمل فائدہ اٹھانا بے حد ضروری اور وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے تلنگانہ کے علاوہ دیگر ریاستوں میں جہاں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے وہاں کے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے خواہش ہے کہ اس توسیع کی مدت کو غنیمت جانیں مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ سماج کے مختلف ذی اثر حضرات ،علماء، مفکرین اور دانشوران ملت ،عوام کو بارہا توجہ دلا رہے ہیں کہ وہ ووٹرٹرلسٹ کی خصوصی جامع مہم نظر ثانیSIR میں اپنے اور اپنے گھر والوں کے علاوہ دیگر افراد خاندان کے ناموں کی شمولیت کو یقینی بنائیں
اس کے باوجود ایک بہت بڑا طبقہ اب بھی غفلت کا شکار ہے مولانا نے اس سلسلے میں صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کی خصوصی دلچسپی کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا کہ صدر مجلس’ ایس آئی آر کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کے علاوہ مختلف سرکاری عہد یداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اس سلسلے میں عوام کی بڑے پیمانے پر رہنمائی بھی کی جا رہی ہے مولانا نے ایس آئی آر فارم بھرنے اور عوام کی رہنمائی کرنے والے تمام کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کیا کہ بہت بڑے پیمانے پر یا پھر اپنی اپنی سطح پر جو بھی کوششیں کی جا رہی ہیں وہ لائق ستائش ہیں مولانا نے کہا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ برادری پروفیسرس ،لیکچررس اور جو بھی SIR کے کام سے واقف ہیں وہ اپنے تمام ارکان خاندان سے دریافت کر لیں کہ انہوں نے ایس آئی آر میں اپنا نام درج کروایا ہے
یا نہیں اور ایسے ناخواندہ لوگ جو نہیں جانتے کہ ایس آئی آر کیا ہے ان سے شخصی طور پر ملاقات کرتے ہوئے ان کا فارم آن لائن وآف لائن کرنے میں مکمل مدد کریں مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ جو لوگ فارم آن لائن بھر چکے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داری مکمل کر لی ہے بلکہ ایک مثبت و ملی جذبہ کے تحت ہر محفل میں ہر دعوت میں جہاں بھی کسی سے ملیں ان کو ترغیب دیں کہ وہ ایس آئی آر میں اپنے ناموں کی شمولیت کو یقینی بنائیں مولانا نے کہا کہ مسلم اقلیت کی سستی اور کاہلی کا یہ عالم دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایس آئی آر مہم میں ابھی تو سیع کر دی گئی ہے ابھی وقت باقی ہے لیکن اس طرح کا سوچنا بالکل غلط ہے ہمیں توسیع کی اس مدت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 3- اگست سے پہلے پہلے ہی اپنے تمام فارم آن لائن کر لینا چاہیے مولانا نے کہا کہ بہت سارے لوگ ووٹرلسٹ میں نام شامل نہ ہونے کے باعث کافی فکر مند اور پریشان ہیں
انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں گھر میں بیٹھ کر پریشان ہونے اور مسئلے کا حل کسی سے دریافت نہ کرنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا جہاں جہاں بھی ایس آئی آر کے فارم بھرے جا رہے ہیں ہم خود راست طور پر ان سے رابطہ کریں اور بی ایل او سے بھی رابطہ کریں اور فوری طور پر اپنے نام شامل کریں اگر فارم داخل نہیں کریں گے تو پھر مسودہ فہرست میں نام نہیں آنے کے بعد آئندہ کافی پریشانیاں ہو سکتی ہیں
مولانا نے کہا کہ بوتھ لیول آفیسرس بھی ایس آئی آر کے عمل میں دن بھر مصروف ہیں ان کی اپنی دیگر ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اسی لیے جب بھی ہمارے گھر بی ایل او آئیں ان سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئیں اور اگر کہیں بی ایل او کی طرف سے لاپرواہی کا مظاہرہ ہوتا ہے تو تب بھی اچھے انداز میں ان سے رابطہ کرتے ہوئے ایس آئی آر کے عمل میں ناموں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ ہماری ریاست تلنگانہ میں بارش کی کمی سے ساری عوام پریشان ہیں
بالخصوص کسان برادری بھی کافی فکرمند اور پریشان ہے اسی لیے جامعہ دارالھدی گراؤنڈ وادی ھدی حیدرآباد میں اتوار 19 جولائی کو 10 بجے صبح کے علاوہ اتوار 26 جولائی کو30-9 بجے صبح عید گاہ بلالی مانصاحبہ ٹینک حیدرآباد پر نماز استسقاء کا اہتمام کیا گیا ہےان دو مقامات کے علاوہ جہاں جہاں بھی نماز استسقاءکی ادائیگی کے اعلان سے ہم واقف ہوں ہماری لازمی ذمہ داری ہے کہ نہ صرف خود بلکہ اپنے احباب، اپنے بچوں، رشتہ داروں کے ساتھ بڑی تعداد میں نماز استسقاء ادا کریں انہوں نے کہا کہ بارش کا نہ ہونا یا کم ہونا سبھی کے لیے ایک تشویش کا مسئلہ ہے
اعلانات اور بڑے پیمانے پر تشہیر ہونے کے باوجود ایک بہت بڑا طبقہ انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نماز استسقا میں شرکت نہیں کرتے یہ بات مناسب نہیں ہے ایسے موقعوں سے ہم کو فائدہ اٹھانا اور اپنے رب العزت کو منانا بے حد ضروری ہے



