جرائم و حادثات

کم سود پر آن لائن قرض کا جھانسہ۔ عادل آباد میں حیدرآباد کا سافٹ ویئر انجینئر گرفتار

عادل آباد: عادل آباد ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اکھیل مہاجن نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر کم سود پر آسان آن لائن قرض دینے کے اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینے والے ایک سائبر فراڈ گروہ کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے۔

 

پولیس نے عادل آباد رورل پولیس اسٹیشن میں درج ایک سائبر فراڈ کیس کو حل کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔ایس پی کے مطابق ضلع کے انکولی گاؤں کے پراوین سوشل میڈیا پر ریلز دیکھ رہے تھے جہاں انہیں آن لائن قرض کا ایک اشتہار نظر آیا۔ اشتہار پر کلک کرنے کے بعد ملزمین نے واٹس ایپ کال کے ذریعے خود کو ایک معروف فینانس کمپنی کے نمائندے ظاہر کیا۔

 

بعد ازاں ملزمین نے پروسیسنگ فیس قرض کی منظوری، ای ایم آئی اور سروس چارجز کے نام پر مختلف مراحل میں متاثرہ شخص سے 17,951 روپے وصول کیے۔ تاہم قرض جاری نہ ہونے پر متاثرہ شخص کو دھوکہ دہی کا احساس ہوا اور اس نے پولیس سے رجوع کیا۔تحقیقات کے دوران پولیس نے مرکزی ملزم کی شناخت آکاش کے طور پر کی جو حیدرآباد کے مشیرآباد کا بتایا گیاہے۔ پولیس کے مطابق اس کے ساتھ مزید چار افراد بھی اس فراڈ میں ملوث ہیں۔

 

پولیس تفتیش میں مرکزی ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اسی طریقۂ واردات سے 30 سے زائد افراد کو دھوکہ دے چکا ہے۔ اس نے بتایا کہ دھوکہ دہی کے لیے مختلف موبائل نمبرس استعمال کیے جاتے تھے اور حاصل ہونے والی رقم اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ برابر تقسیم کی جاتی تھی۔ایس پی نے بتایا کہ ملزم کے خلاف 11 سائبر جرائم سے متعلق شکایات پہلے ہی درج ہیں۔

 

پولیس نے دھوکہ دہی میں استعمال ہونے والا موبائل فون بھی ضبط کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق مرکزی ملزم آکاش پیشہ کے اعتبار سے سافٹ ویئر انجینئر ہ جبکہ اس کے مفرور ساتھیوں کی شناخت وینکٹ سائی، گووردھن، اکھیل اور کاررتک کے طورپر ہوئی ہے

 

ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button