ہیلمٹ اور جوتوں کو بھی ’سینیٹری باتھ‘ کی ضرورت، صرف 100 روپے میں صفائی

حیدرآباد: ہم روزانہ موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ پہنتے ہیں اور باہر جاتے وقت جوتے استعمال کرتے ہیں لیکن اکثر انہیں صاف کرنا بھول جاتے ہیں۔
پسینے دھول اور نمی کی وجہ سے ہیلمٹ کے اندر اور جوتوں میں جراثیم فنگس اور بیکٹیریا پیدا ہوسکتے ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے اب ’سینیٹری باتھ‘ کی سہولت متعارف کروائی گئی ہے۔اے ٹی ایم جیسی نظر آنے والی خودکار مشین میں ہیلمٹ یا جوتے رکھ کر صرف 100 روپے ادا کرنے پر انہیں یو وی، اوزون، بھاپ اور گرم ہوا کی ٹیکنالوجی کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے۔
ماہرینِ امراضِ جلد کے مطابق پسینے اور نمی کی وجہ سے ہیلمٹ کے لائنر میں فنگس اور بیکٹیریا بڑھ سکتے ہیں۔ ایک شخص کا ہیلمٹ دوسرے شخص کے استعمال کرنے سے جلد کے انفیکشن بھی پھیل سکتے ہیں۔ اسی لیے ہیلمٹ کی صفائی کے لیے اسمارٹ ہیلمٹ اور جوتوں کو جراثیم سے پاک کرنے والی مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔’اسٹیپ ٹران‘ کے جوتوں کو جراثیم سے پاک کرنے والے کیوسک چار مراحل میں کام کرتے ہیں
اسٹرلائزیشن، ڈس انفیکشن، ڈیوڈورائزیشن اور 360 ڈگری گرم ہوا کے ذریعے خشک کرنا۔حیدرآباد کے ڈی ایس ایل اور اے ایم آر شاپنگ مالس کے علاوہ ہندوستان پیٹرولیم، انڈین آئل اور بھارت پیٹرولیم کے پیٹرول پمپس پر ’گلو می اسمارٹ‘ کیوسک نصب کیے گئے ہیں۔ شہر میں اب تک 25 سے زائد کیوسک دستیاب ہوچکے ہیں۔حیدرآباد کی کمپنی ’گلو می اسمارٹ‘ چین، تائیوان اور ترکی سے درآمد کیے گئے الیکٹرانک آلات کے پرزوں کو شہر میں اسمبل کرکے یہ کیوسک تیار کر رہی ہے۔ کمپنی کی ایسوسی ایٹ ونوتا کے مطابق مہبوب نگر، وقارآباد، تانڈور اور وشاکھاپٹنم میں بھی یہ کیوسک قائم کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیلمٹ اور جوتوں کو ’فریش نیس لیکوئڈ‘ کے ذریعے بھی صاف کیا جاتا ہے۔جوبلی ہلز ٹریفک اے سی پی ہری پرساد نے لوگوں کو ہیلمٹ کی صفائی اور ذاتی صحت کے تحفظ کے لیے ان کیوسک کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے صفائی کے ساتھ ساتھ ہیلمٹ کے
لائنر اور جوتوں کو باقاعدگی سے صاف کرکے اچھی طرح خشک کرنا بھی ضروری ہے۔



