جرائم و حادثات

حیدرآباد فوجی اسلحہ چوری کیس کی ’فلمی انداز‘ میں تحقیقات، سائے کو تک نہیں بخشا گیا

حیدرآباد: بلارم ملٹری مدراس رجمنٹ اسلحہ چوری کیس میں حیدرآباد ٹاسک فورس پولیس کے ساتھ فوجی حکام ریاست کے مختلف پولیس محکموں اور مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے کی گئی تحقیقات نے سب کو حیران کردیا ہے۔

 

اس کیس کے معملہ سلجھانے کے لیے پولیس اور تحقیقاتی حکام نے جس باریک بینی سے کام کیا وہ کسی سنسنی خیز سسپنس تھرلر فلم سے کم نہیں تھا۔تقریباً 11 دن تک جاری رہنے والی تفتیش میں پولیس نے مختلف زاویوں سے شواہد اکٹھے کیے اور بالآخر کیس میں اہم پیش رفت حاصل کی۔

 

کیس کی تفتیش کے دوران حیدرآباد ٹاسک فورس پولیس نے تقریباً 500 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ 29 اور 30 تاریخ کی درمیانی شب کی فوٹیج کو سیکنڈ بہ سیکنڈ اسکین کیا گیا۔پولیس نے رات کے وقت روشنی کی وجہ سے نظر آنے والے سائے تک کو مشکوک سمجھ کر ان کا تجزیہ کیا۔

 

سی سی ٹی وی سے حاصل ہونے والے ابتدائی شواہد کو ٹائم گیپ مینجمنٹ کے ذریعے میپ کیا گیا۔ اسی عمل کے دوران پولیس نے سابق فوجی ملازم ملیش کو مشتبہ شخص کے طور پر شناخت کیا اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور بالآخر کیس کو حل کردیا۔پولیس حکام کے مطابق ایک رات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے اہلکار مسلسل دو دن تک ویڈیوز دیکھتے رہے۔

 

بلارم ملٹری اسلحہ گمشدگی کے واقعے پر ابتدا میں بلارم پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کیا تھا۔ سابق فوجی ملازم ملیش کی گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر اس کے خلاف آرمز ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس نے ملیش کے قبضے سے مسروقہ 12 رائفلیں، 2 ہزار گولیاں، نائٹ وژن دوربین اور میگزین برآمد کیے ہیں۔

 

ریمانڈ پر موجود ملیش کو دوبارہ پولیس تحویل میں لے کر یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ اسلحہ گمشدگی کے پیچھے کسی اور سازش یا دیگر افراد کا ہاتھ تو نہیں تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button