سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کا بیٹا ابان سڑک حادثے میں جاں بحق -جیل میں بند بھائی سے ملنے کے دوران راستہ میں حادثہ
نئی دہلی: اترپردیش کے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد مرحوم کے سب سے چھوٹے بیٹے ابان جمعرات کو اترپردیش کے جھانسی میں ایک سڑک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ پریاگ راج سے جھانسی اپنے جیل میں بند بھائی سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ابان جس سفید رنگ کی ہنڈائی کریٹا کار میں سوار تھا، وہ مبینہ طور پر تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہوکر سڑک کے ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ ابان اور اس کا دوست سونو موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ گاڑی تیز رفتار سے چلائی جا رہی تھی۔ دونوں نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جبکہ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ حادثہ کن حالات میں پیش آیا، تاہم واقعے سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
عتیق احمد کے خاندان کے خلاف کئی مجرمانہ مقدمات درج ہیں، جس کے باعث یہ خاندان طویل عرصے سے خبروں میں رہا ہے۔ عتیق احمد کا بیٹا اسد احمد اپریل 2023 میں اترپردیش پولیس کے انکاؤنٹر میں ہلاک ہوگیا تھا۔ اسد، وکیل امیش پال قتل کیس میں مطلوب تھا۔
عتیق احمد کا دوسرا بیٹا علی احمد اس وقت جھانسی جیل میں بند ہے اور اس کے خلاف گینگسٹر ایکٹ سمیت تقریباً 10 مقدمات درج ہیں۔
ایک اور بیٹا عمر احمد لکھنؤ جیل میں قید ہے، جس کے خلاف پولیس ریکارڈ کے مطابق 11 مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔
سب سے چھوٹا بیٹا ابان جیل سے باہر رہ کر اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا، لیکن جھانسی میں پیش آنے والے سڑک حادثے میں اس کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا۔
عتیق احمد کی اہلیہ شائستہ پروین اب بھی مفرور ہیں۔ وہ مختلف مجرمانہ مقدمات میں مطلوب ہیں اور اترپردیش پولیس نے ان کی گرفتاری کی اطلاع دینے والے کے لیے 50 ہزار روپے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔



