مدارس میں”وندے ماترم” اور "جنا گنا منا” کو لازمی قرار دیا جائے۔ حیدرآباد پارلیمانی حلقہ سے شکست خوردہ امیدوار مادھوی لتا

حیدرآباد: تلنگانہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈر مادھوی لتا نے مدارس میں انگریزی تعلیم متعارف کروانے اور "وندے ماترم” اور "جنا گنا منا” کو لازمی قرار دینے کی وکالت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلبہ میں حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔
مادھوی لتا نے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے اس بیان کی بھی تائید کی جس میں انہوں نے مدارس کو مبینہ طور پر "دہشت گردی کی فیکٹریاں” قرار دیا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام نے آج تک حقیقی معنوں میں نہ تو قرآن کی تعلیمات کو دیکھا ہے اور نہ ہی یہ سمجھا ہے کہ اسلام بچوں کی کس طرح تربیت کرتا ہے۔
ان کے مطابق بعض عناصر کی جانب سے جہاد، دہشت گردی اور اسلحہ سے متعلق باتیں سامنے آتی رہی ہیں جس کی وجہ سے غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔بی جے پی لیڈرنے مزید کہا کہ اگر ایک بچہ مسلسل ایسے ماحول میں تعلیم حاصل کرے جہاں اسے صرف ملک مخالف سوچ سکھائی جائے تو اس کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض بچوں کے ذہنوں میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے خلاف نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں۔مادھوی لتا کا کہنا تھا کہ مدارس کے کئی طلبہ انگریزی تعلیم سے محروم رہتے ہیں جس کے باعث انہیں مستقبل میں روزگار اور دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
ان کے مطابق یہ بچوں کے ساتھ ناانصافی ہے اس لیے مدارس میں انگریزی تعلیم کو لازمی بنایا جانا چاہیے تاکہ وہ جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مدارس میں طلبہ کے اندر حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے "وندے ماترم”، قومی ترانہ "جنا گنا منا” اور "جے بولو بھارت ماتا” جیسے نعروں کو بھی نصاب اور روزمرہ سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے۔
مولانا ساجد رشیدی کے کانوڑ یاتریوں سے متعلق بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مادھوی لتا نے کہا کہ وہ اس معاملے پر زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتیں تاہم انہوں نے مولانا ساجد رشیدی سے سوال کیا کہ گنگا میں مرغی کی ہڈیاں پھینکنے والے دہشت گرد کون تھے۔




