شارجہ میں کرناٹک کے شخص کا بہیمانہ قتل – نعش کے 9 ٹکڑے کار سے برآمد؛ بیوی اور کمسن بیٹا لاپتہ
متحدہ عرب امارات میں کرناٹک سے تعلق رکھنے والے ایک ہندوستانی شہری کے قتل کی واردات نے سنسنی پیدا کردی۔ افراد خاندان کے مطابق مقتول کے جسم کے اعضا ایک کار سے برآمد ہوئے ہیں۔ قتل کے بعد سے اس کی اہلیہ اور کمسن بیٹے کا بھی کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔
قومی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کرناٹک کے ضلع اڈوپی سے تعلق رکھنے والے الوین پرکاش کندر اپنی اہلیہ ٹینا اور بیٹے کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے۔ وہ گزشتہ 14 سال سے شارجہ ایئرپورٹ پر ملازمت کر رہے تھے۔ جولائی میں وہ افراد خاندان کے ساتھ شارجہ سے ہندوستان روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے، اسی دوران مبینہ طور پر الوین کو قتل کردیا گیا۔
مقتول کے بھائی انیل کے مطابق 20 جولائی کو انہوں نے الون سے فون پر بات کرنے کی کوشش کی، تاہم رابطہ نہیں ہوسکا۔ بعد میں الون کی جانب سے ایک ٹیکسٹ میسج موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ انیل نے کہا کہ الون عام طور پر وائس میسج بھیجا کرتے تھے، لیکن اس مرتبہ صرف ٹیکسٹ میسج آنے پر انہیں تشویش ہوئی۔
ایک ہفتے بعد دوبارہ فون کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ الوین کے ایک دوست کی مدد سے ان کے گھر کی جانچ کروائی گئی تو وہاں موجود واچ مین نے بتایا کہ پورا خاندان ہندوستان جاچکا ہے۔ کمپنی کی جانب سے بھی یہی اطلاع دی گئی۔ تاہم الوین ہندوستان نہیں پہنچے تھے، جس کے بعد اہل خانہ نے ان کی تلاش کی درخواست کی۔
پاسپورٹ کی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ الوین اب بھی شارجہ میں موجود تھے۔ اس کے بعد ان کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کرائی گئی۔ پولیس کی تحقیقات کے دوران عمان جانے والے راستے کی سمت پارک کی گئی ایک کار سے الوین کے جسم کے اعضا برآمد ہوئے۔ انیل کے مطابق، ’’جسم کو نو حصوں میں تقسیم کرکے دو تھیلوں میں رکھا گیا تھا۔‘‘
پولیس اب الوین کی اہلیہ اور بیٹے کا سراغ لگانے کے ساتھ قتل کی وجوہات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تفتیش میں ٹینا کے ممکنہ کردار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم افراد خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں الوین اور ٹینا کے درمیان کسی تنازعہ یا جھگڑے کے بارے میں علم نہیں تھا۔




