نیشنل

سچا مسلمان دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے گائے ذبح نہیں کرتا – صرف حرامی ہی کرتے ہیں : رامپور ضلع ایس پی کے بیان پر تنازعہ

لکھنو – اتر پردیش کے رامپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) انیل کمار سنگھ سسودیا جمعرات کو گائے ذبح کرنے کے خلاف مہم سے متعلق ایک بیان کے بعد تنازعہ میں گھر گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سچا مسلمان‘‘ گائے ذبح نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی دوسرے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔ ۔

 

پولیس لائنز میں اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سسودیا نے کہا کہ شراون کے مہینے میں ضلع کے گنج اور سوار پولیس اسٹیشن کے علاقوں میں گائے ذبح کرنے کے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں۔

 

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ایس پی نے کہا کہ اسلام کے مطابق ایسے جانور کا گوشت کھانا جسے ذبح کرنے سے کسی دوسرے شخص کے مذہبی جذبات مجروح ہوں، حرام ہے۔ ان کے بقول، ’’سچا مسلمان ایسا کام نہیں کرسکتا۔ جو لوگ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، وہ یا تو مسلمان نہیں ہیں یا حرامی لوگ ہیں۔ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنا میرا کام ہے۔‘‘

 

ایس پی نے بتایا کہ وہ رامپور میں متولیوں اور علما کے ساتھ اجلاس کریں گے اور ان سے اپیل کریں گے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

 

انہوں نے گزشتہ 10 سال کے دوران گائے ذبح کرنے کے مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی تصدیق کے لئے خصوصی مہم چلانے کا بھی اعلان کیا۔ پولیس اسٹیشن کو ایسے افراد کی تفصیلات پر مشتمل ڈوزیئر تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس میں ان کی ضمانت کی شرائط اور ضمانتی افراد کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔

 

بعد میں ایس پی نے وضاحت کی کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، تاہم ان کے ریمارکس پر سیاسی تنازع شروع ہوگیا۔

 

ضلع ایس پی کے بیان پر کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے سخت اعتراض کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک سینئر پولیس افسر کی جانب سے اس طرح کی سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کرنا ظاہر کرتا ہے کہ حکمراں حکومت کے دور میں پولیس فورس ’’تشدد پسند اور من مانی کرنے والی‘‘ بن گئی ہے۔

 

اتر پردیش کانگریس کے سینئر لیڈر انیل یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کی مسلم برادری سے متعلق پالیسیوں کی وجہ سے ایسے پولیس افسران کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو اس برادری کے بارے میں منفی رویہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں پولیس کا رویہ جارحانہ اور من مانی کرنے والا ہوگیا ہے، جس کا اظہار اس طرح کی زبان سے ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button