جنرل نیوز

۔ SDPI کے ڈِسٹرکٹس فارمیشن کی دو روزہ تقاریب میں اہم قائدین کی شرکت

معاشرے کی تبدیلی SDPI کا اصل نشانہ ہے۔ ورنہ سیاسی اور معاشی تبدیلیاں مزید بگاڑ پیدا کردیتی ہیں۔

SDPI کے ڈِسٹرکٹس فارمیشن کی دو روزہ تقاریب میں اہم قائدین کی شرکت

SDPI جو ملک کی سب سے زیادہ ابھرتی ہوئی سیاسی قوت ہے، تلنگانہ میں اس کا قیام 21 جون 2026 کو حیدرآباد میں عمل میں آٰیا تھا۔ شہرمیں تحریک کو عوامی سطح پر لانے کے لئے شہر کو چار ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا گیا۔ اور مقامی کارکنان کی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

 

چاروں موقعوں پر انچارج تلنگانہ اسٹیٹ عطااللہ خان صاحب، نیشنل ورکنگ کمیٹی ممبر محترمہ شیبہ مینائی اور صدرتلنگانہ اسٹیٹ سید منصورشاہ صاحب خطاب کیا اور نومنتحبہ اراکین کو تہنیت پیش کی۔

 

عطااللہ خان صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم کوملک کی سلامتی کے لئے قانون کی حفاظت کرنی ہوگی جو کہ ان فاشسٹوں کے ہاتھوں خطرے میں ہے جنہوں نے بنیادی حقوق اور بولنے کی آزادی چھین لی ہے۔ سید منصورشاہ صاحب نے کہا کہ مظلوم کمیونیٹیز جب تک متحد نہیں ہوں گے ظلم اور استبداد کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔

 

ہمیں سب سے پہلے دوسری تمام کمیونیٹیز کے قریب ہونا پڑے گا جوکہ فاشسٹ گوارا نہیں کریں گے۔ محترمہ شیبہ مینائی نے کہا کہ اس وقت ملک میں ہرطرف خواتین برسرِ پیکار ہیں لیکن ہماری کمیونٹی میں عورتوں کو آگے آنے کا مواقع فراہم نہیں کیئے جارہے ہیں، SDPI خواتین کو اپنے مسائل خود حل کروانے کی اُن میں اہلیت اور طاقت پیدا کرے گی۔ عبدالعزیزصاحب سِٹی پریسیڈنٹ نے کہا کہ معاشرے کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ نوجوان نسل جس تیزی سے اخلاقی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے، اس کو جب تک روکا نہیں گیا، جتنی تباہی آج تک ہوچکی ہے، مستقبل قریب میں اس سے زیادہ خرابیاں پیدا ہونے والی ہیں۔

 

اِن کے علاوہ ڈاکٹرعلیم خان فلکی، عرفان صابری، عفّان الکومان، مولانا عبدالصمد، محمد رفیق صاحبان نے بھی مخاطب کیا۔

 

حیدرآباد ڈسٹرکٹ کے لئے یونس احمد فراز صاحب کو صدر منتخب کیا گیا، میڑچل کے لئےمحمد صدّام صاحب کو، رنگاریڈی کے لئے محمد شفیع صاحب اور نارائین پیٹ کے لئے منتخب کیا گیا۔ ہر ڈسٹرکٹ کی کمیٹیاں بھی منتخب کی گئیں جو عوامی رابطے کا کام کرینگی۔ جمیل الدین صاحب نےچاروں اجتماعات کے اتنظامات کی سرپرستی کی۔ ہر اجتماع میں کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button