اسپشل اسٹوری

حیدرآباد کے گولکنڈہ میں سرنگ کی دریافت، قلعہ گولکنڈہ سے چارمینار تک خفیہ راستے کی پرانی روایت پھر زندہ

گولکنڈہ میں سرنگ کی دریافت، قلعہ گولکنڈہ سے چارمینار تک خفیہ راستے کی پرانی روایت پھر زندہ

حیدرآباد: گولکنڈہ میں تقریباً 400 سال قدیم قطب شاہی مقبرے کے قریب کھدائی کے دوران مبینہ طور پر ایک سرنگ دریافت ہوئی ہے، جس کے بعد گولکنڈہ قلعہ اور چارمینار کے درمیان زیرِ زمین خفیہ راستے سے متعلق قدیم روایت ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔

 

یہ سرنگ گولکنڈہ 18 سی ڈی کے علاقہ میں اس وقت سامنے آئی جب تاریخی قطب شاہی مقبرے سے متصل کھیل کے میدان اور اس کے اطراف مبینہ طور پر غیر مجاز کھدائی کی جا رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق موقع پر فوجی حکام کی جانب سے کھدائی کا کام جاری تھا کہ زیرِ زمین یہ ساخت نظر آئی۔

 

سرنگ کی دریافت کے بعد حکام نے اس کی نوعیت، قدامت اور طوالت کا پتہ لگانے کے لیے تفصیلی معائنہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ آیا یہ کسی قدیم تعمیراتی ڈھانچہ کا حصہ ہے یا حالیہ کھدائی کے نتیجہ میں وجود میں آئی ہے۔

 

معاملہ محکمہ آثارِ قدیمہ ہند (اے ایس آئی) کے سپرنٹنڈنٹ کے علم میں لایا گیا ہے، جس کے بعد محکمہ کے عہدیدار مقام کا معائنہ کرنے کی توقع ہے۔ معاینہ کے دوران کھدائی کی نوعیت، اس کی گہرائی و وسعت اور دریافت ہونے والی سرنگ کا جائزہ لیا جائے گا۔

 

مبینہ کھدائی کی اطلاع حیدرآباد کلکٹر، حیدرآباد پولیس کمشنر اور ساؤتھ ویسٹ زون کے ڈپٹی کمشنر پولیس کو بھی دی گئی ہے۔ مزید غیر مجاز سرگرمیوں کو روکنے کے لئے مقام پر پولیس پکٹ تعینات کئے جانے کی بھی توقع ہے۔

 

اس دریافت نے اس لئے بھی خاصی دلچسپی پیدا کردی ہے کیونکہ کئی صدیوں سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ گولکنڈہ قلعہ اور چارمینار کے درمیان ایک زیرِ زمین راستہ موجود تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قطب شاہی شاہی خاندان کے افراد اس راستے کے ذریعے قلعہ اور شہر کے درمیان آمدورفت کرتے تھے۔

 

تاہم گولکنڈہ قلعہ سے چارمینار تک براہِ راست سرنگ کے وجود، اس کے راستہ اور طوالت کی اب تک کوئی حتمی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس لئے حالیہ دریافت ہونے والی سرنگ کو فی الحال اس تاریخی روایت کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

 

حکام کے مطابق اصل حقیقت مقام کے تفصیلی معائنے اور زیرِ زمین ڈھانچہ کے سائنسی و آثارِ قدیمہ کے جائزے کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔ قطب شاہی دور نے حیدرآباد میں قلعوں، مقبروں، مساجد اور دیگر تاریخی عمارتوں کی شکل میں ایک وسیع ورثہ چھوڑا ہے، اس لیے قدیم قطب شاہی مقبرے کے قریب کسی بھی زیرِ زمین ڈھانچہ کی دریافت آثارِ قدیمہ کے اعتبار سے اہم قرار دی جارہی ہے۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button