اخباری رپورٹ کی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف حکم جاری نہیں کرسکتے: سپریم کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف دائر درخواست پر اہم تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی اخبار میں شائع خبر کی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احکامات جاری نہیں کیے جاسکتے۔
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا سی ای سی گیانیش کمار دیگر انتخابی کمشنروں کو آئینی طور پر حاصل اختیارات کو یکطرفہ طور پر استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں۔ عدالت نے کہا کہ اس سے پہلے اس معاملے پر الیکشن کمیشن کا جواب بھی دیکھا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا۔عدالت نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ ووٹوں کو حذف کرنے کے فیصلے سی ای سی نے یکطرفہ طور پر کیے تھے تو مزید کارروائی کے لیے احکامات جاری کیے جائیں گے۔اس معاملے سے متعلق دیگر درخواستوں کو بھی تین رکنی بنچ نے سماعت کے لیے قبول کرلیا۔
درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ جون 2025 سے اب تک ایس آئی آر کے تحت مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں حذف کیے گئے 13 کروڑ سے زیادہ ووٹوں کی ایس آئی ٹی کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں۔ اس کے علاوہ سی ای سی کے فیصلوں کو منسوخ کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
حال ہی میں قومی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایس آئی آر کے دوران ووٹوں کو حذف کرنے اور شامل کرنے کے معاملے پر گزشتہ 10 ماہ میں دو الیکشن کمشنروں، سندھو اور جوشی، نے 14 مرتبہ اعتراضات اٹھائے تھے۔ اس رپورٹ کے بعد سی ای سی کے مبینہ یکطرفہ فیصلوں کے خلاف اپوزیشن جماعتوں
طلبہ رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا۔ اسی پس منظر میں گیانیش کمار کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔



