بھیمگل پولیس اسٹیشن واقعہ میں پولیس کی کوئی غلطی نہیں: نظام آباد کمشنر پولیس سائی چیتنیہ

نظام آباد: کمشنر پولیس نظام آباد سائی چیتنیہ نے کہا کہ بھیمگل پولیس اسٹیشن کے احاطے میں پیش آئے واقعہ میں پولیس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج صبح تقریباً 9:45 بجے ایک شخص پٹرول کی بوتل اور ماچس لے کر پولیس اسٹیشن پہنچا اور اپنے جسم پر پٹرول ڈال کر آگ لگا لی۔
کمشنر پولیس کے مطابق اسٹیشن میں موجود پولیس اہلکاروں اور شکایت کے لئے آئے افراد نے فوری طور پر آگ بجھائی اور متاثرہ شخص کو علاج کے لیے نظام آباد سرکاری اسپتال منتقل کیا۔
سائی چیتنیہ نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ لگانے والے شخص کی شناخت بھیمگل کے رہنے والے پی۔ سدھاکر کے طور پر ہوئی ہے، جو پرانے بس اسٹینڈ بھیمگل میں ٹی اسٹال چلاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سدھاکر کی دکان کے سامنے موجود ایک کرانہ دکان کے مالک کی جانب سے مبینہ طور پر اس بات پر اعتراض کیا گیا کہ سدھاکر اس سے سگریٹ نہیں خرید رہا ہے۔ اس سلسلے میں مبینہ طور پر دو رپورٹرس کو سدھاکر کے پاس بھیج کر اسے دھمکایا گیا تھا۔
کمشنر پولیس نے مزید بتایا کہ سدھاکر کی جانب سے رات دیر تک دکان چلائے جانے کے معاملے میں پولیس نے اپنی ڈیوٹی کے تحت اس کے خلاف ایک معمولی مقدمہ درج کیا تھا۔
ان کے مطابق رپورٹرس کی مبینہ دھمکی کے معاملے کو ذہن میں رکھتے ہوئے سدھاکر پولیس اسٹیشن پہنچا اور وہاں خود کو آگ لگا لی۔
سائی چیتنیہ نے واضح کیا کہ سدھاکر کے خود کو آگ لگانے کے واقعہ سے پولیس نظام کا کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے اور اس معاملے میں پولیس کی جانب سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔



