نیشنل

ورزش کے دوران ہارٹ اٹیک ۔ آسام کے ڈاکٹر رحمان کی موت

نئی دہلی: ڈاکٹر شاہین رحمان جو آسام کے ناگاؤں میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے شعبۂ کمیونٹی میڈیسن میں اسوسی ایٹ پروفیسر تھے، 27 اگست کو مبینہ طور پر جم میں ورزش کے دوران اچانک گرنے کے بعد انتقال کر گئے۔

 

ابتدائی اطلاعات کے مطابق رحمان چہارشنبہ کی شام تقریباً 7 بج کر 36 منٹ پر معمول کی ورزش کے دوران بے ہوش ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ جم میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں بھی ریکارڈ ہوا۔ بعد ازاں انہیں طبی امداد کے لیے لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

 

تاہم موت کی اصل وجہ کی ابھی تک باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔رحمان کی اچانک موت نے ان کے ساتھی ڈاکٹروں طلبہ اور مقامی برادری کے افراد کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔

 

اگرچہ موت کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی لیکن اس واقعے نے خاص طور پر سخت اور زیادہ شدت والی ورزش کے دوران احتیاط سے ورزش کرنے کی اہمیت پر دوبارہ توجہ مرکوز کر دی ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ گاندھی نگر کے مطابق ورزش کے دوران ہونے والے ہارٹ اٹیک

 

جنہیں طبی زبان میں ’’ایگزریشنل مایوکارڈیل انفارکشن‘‘ کہا جاتا ہے نایاب لیکن سنگین واقعات سمجھے جاتے ہیں جو شدید جسمانی سرگرمی کے دوران یا اس کے فوراً بعد پیش آ سکتے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق باقاعدگی سے ورزش کرنے سے دل اور خون کی شریانوں کو نمایاں فوائد حاصل ہوتے ہیں

 

تاہم ضرورت سے زیادہ جسمانی مشقت بعض افراد کے لیے خطرہ بن سکتی ہے خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنہیں پہلے سے صحت کے مسائل لاحق ہوں یا جو طویل عرصے تک جسمانی سرگرمی سے دور

 

رہنے کے بعد اچانک سخت ورزش شروع کر دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button