مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی اسکیموں کو رفتار دینے کا مطالبہ، سلیم سارنگ کی نائب وزیر اعلیٰ سنیتر ا پوار سے ملاقات

ممبئی : مولانا آزاد اقلیتی اقتصادی ترقیاتی کارپوریشن کی مختلف اسکیموں کو مزید مؤثر طریقے سے نافذ کرنے اور اقلیتی طبقے کے طلبہ، چھوٹے کاروباریوں اور ضرورت مند شہریوں کو مالی مدد فراہم کرنے کے مقصد سے مولانا آزاد کارپوریشن کے ڈائریکٹر سلیم سارنگ نے نائب وزیر اعلیٰ مہاراشٹراور اقلیتی ترقی و اوقاف کی کابینی وزیر سنیتر ا پوار سے ملاقات کی اور اہم مطالبات پیش کیے۔ اس موقع پر کارپوریشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اصغر مقادم اور الطاف پاویکر بھی موجود تھے۔
سلیم سارنگ نے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے موجودہ کام کاج میں درپیش مسائل، زیر التوا تجاویز اور اقلیتی طبقے کی ضروریات سے نائب وزیر اعلیٰ سنیتر ا جیت پوار کو واقف کراتے ہوئے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی اسکیموں کو فوری طور پر رفتار دینے کا مطالبہ کیا۔
تعلیمی قرض کی حد ۵ سے بڑھا کر ۲۰ لاکھ روپے کی جائے :
فی الحال مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے زریعے اقلیتی طلبہ کو فراہم کی جانے والی تعلیم قرض اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ ۵ لاکھ روپے تک کا قرض فراہم کیا جاتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر یہ رقم ناکافی ہے، اس لیے تعلیمی قرض کی حد بڑھا کر ۲۰ لاکھ روپے کی جائے، سلیم سارنگ نے یہ مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں کارپوریشن کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ سے دو برس سے اقلیتی ترقیاتی محکمہ کے پاس تجویز زیر التوا ہے۔ لہٰذا اس تجویز پر فوری فیصلہ کرتے ہوئے طلبہ کو بڑی راحت فراہم کرنے کا مطالبہ سلیم سارنگ نے کیا۔
۲۰۱۴-۱۵ سے بند کاروباری قرض اسکیم دوبارہ شروع کی جائے :
سلیم سارنگ نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ اس وقت کارپوریشن کے تحت ریاستی حکومت کے فنڈ سے اقلیتی طبقے کیلئے کوئی کاروباری قرض اسکیم جاری نہیں ہے۔
اس سے قبل ’براہ راست قرض اسکیم‘ کے نام سے کاروباری قرض اسکیم شروع کی گئی تھی، تاہم اسے سال ۲۰۱۴-۱۵ میں بند کر دیا گیا۔ اس کے پیش نظر اقلیتی طبقے کے چھوٹے کاروباریوں، نوجوانوں اور خود روزگار شروع کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے ریاستی حکومت کے فنڈ سے نئی کاروباری قرض اسکیم شروع کرنے کی اجازت دی جائے، یہ مطالبہ کیا گیا۔
اس اسکیم کے تحت چھوٹے کاروبار کے لیے قرض کے ساتھ ساتھ کاروباری گاڑی خریدنے کے لیے بھی قرض فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ون ٹائم سیٹلمنٹ اسکیم نافذ کرنے کا مطالبہ :
مہامنڈل سے قرض حاصل کرنے والے بعض مستفیدین کی جانب سے بقایا قرض کی یکمشت ادائیگی کے لیے ون ٹائم سیٹلمنٹ (OTS) اسکیم شروع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم فی الحال مہامنڈل کے پاس ایسی کوئی اسکیم دستیاب نہیں ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ کو تجویز بھیجی جا چکی ہے۔ سلیم سارنگ نے مطالبہ کیا کہ او ٹی ایس اسکیم نافذ کرکے قرض داروں کو راحت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مہامنڈل کے بقایا قرض کی وصولی میں بھی اضافہ کیا جائے۔
۹ نومبر ۲۰۲۴ کے حکومتی فیصلے میں شامل تمام اسکیمیں فوری طور پر شروع کی جائیں :
اقلیتی ترقیاتی محکمہ نے ۹ نومبر ۲۰۲۴ کو مہامنڈل کی مختلف اسکیموں کے سلسلے میں حکومتی فیصلہ جاری کیا تھا۔ اس حکومتی فیصلے میں شامل تمام اسکیموں کو عملی طور پر شروع کرنے کے لیے مہامنڈل کو اجازت دی جائے اور ان اسکیموں کے لیے ضروری فنڈ بھی دستیاب کرایا جائے، یہ مطالبہ بھی سلیم سارنگ نے کیا۔
اقلیتی طبقے کو اسکیموں کا عملی فائدہ ملنا ضروری : سلیم سارنگ نے نائب وزیر اعلیٰ سنیتر ا جیت پوار کے سامنے واضح موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہامنڈل کی اسکیمیں صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کا عملی فائدہ اقلیتی طبقے کے طلبہ، نوجوانوں، کاروباریوں اور ضرورت مند مستفیدین تک پہنچنا ضروری ہے۔ اس کے لیے زیر التوا تجاویز کو فوری منظوری دی جائے اور کارپوریشن کو ضروری فنڈ اور انتظامی تعاون فراہم کیا جائے۔
اس موقع پر ڈاکٹر اصغر مقادم اور الطاف پاویکر نے بھی ان مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے مولانا آذاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی اسکیموں کو وسعت دینے اور ان پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سلیم سارنگ نے کہا، اقلیتی طبقے کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بڑے قرض کی ضرورت ہے، جبکہ نوجوانوں کو کاروبار اور خود روزگار کے لیے مالی تعاون درکار ہے۔ اس لیے زیر التوا تجاویز کو مزید تاخیر کیے بغیر فوری منظوری دی جائے اور مہامنڈل کی اسکیموں کے لیے ضروری فنڈ فراہم کیا جائے۔‘



