جنرل نیوز

نعت خوانی دنیاوی عمل نہیں مقدس روایات کی برقراری ضروری نور اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر کے نعت خوانی کے مقابلے۔ 88 طلبہ شریک۔ علماء مشائخ کی شرکت 

نعت خوانی دنیاوی عمل نہیں مقدس روایات کی برقراری ضروری

نور اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر کے نعت خوانی کے مقابلے۔ 88 طلبہ شریک۔ علماء مشائخ کی شرکت 

حیدرآباد 7 ستمبر (راست) میلاد النبیؐ کی مناسبت سے شہر میں منعقدہ دو روزہ نعتیہ مقابلہ نہایت عقیدت، وقار اور پُرکیف ماحول میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ مقابلے میں 88 بچوں نے شرکت کرکے نعت خوانی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ نور اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر کے زیراہتمام دو روزہ نعتیہ مقابلہ کے تمام شرکاء کو کتب، اسناد اور مومنٹوس سے نوازا گیا، 20 شارٹ لسٹڈ بچوں کو نقد انعامات بھی دیے گئے

 

۔ یہ پروگرام مولانا مفتی ڈاکٹر سید شاہ سمیع اللہ محمد محمد آلحسینی سجادہ نشین و متولی درگاہ حضرت سید شاہ ملک محمد محمد آلحسینیؒ شاہ راج پیٹ کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ مقابلے کا اہتمام نور اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر کے زیرِ اہتمام کیا گیا، جو اہلسنت فاؤنڈیشن اور یونائیٹڈ والنٹیئرس اسوسی ایشن کا ایک ذیلی یونٹ ہے، یہ پروگرام حضرت سید شاہ نور اللہ حسینی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے بینر تلے منعقد کیا گیا۔

 

تقریب میں مہمانانِ خصوصی کے طور مولانا سید غیاث الدین چشتی جانشین سابق دیوان اجمیر شریف، پروفیسر مولانا ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیر مانو یونیورسٹی حیدرآباد، مولانا خواجہ شاہ بہاؤالدین فاروق نقشبندی انجینئر، مولانا سید ابوالفتح بندگی ریاض پاشاہ قادری ممبر تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ، مولانا سید شاہ ابراہیم حسینی، مولانا ڈاکٹر سید واحد علی نائب مفتی جامعہ نظامیہ، ڈاکٹر سید احمد غوری نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ، مولانا پروفیسر سید شاہ وحید اللہ حسینی قادری ملتانی، مولانا سید شاہ فریدالدین محمد محمد الحسینی، مولانا ڈاکٹر سید اویس بخاری نقشبندی، مولانا مختار خان، مولانا ڈاکٹر خواجہ شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ، مولانا سید شاہ رحمت محمد محمد الحسینی، مولانا سید شاہ کلیم اللہ محمد محمد الحسینی انجینئر، مولانا سید نصر محی الدین ثاقب پاشاہ قادری زرین کلاہ، مولانا سید شاہ سیف اللہ حسینی بندہ نوازی، مولانا سید معز قادری، حافظ قاری محمد عبدالرزاق نقشبندی، مولانا ڈاکٹر سید شاہ محمد بادشاہ قادری الموسوی اور مولانا سید حجت اللہ حسینی افتخاری شامل تھے۔ یہ مقابلے 5 اور 6 ستمبر 2026 کو اردو مسکن، سالارِ ملت آڈیٹوریم خلوت، حیدرآباد میں منعقد ہوئے۔ تمام شرکاء کے لیے تحائف، نمایاں بچوں کو نقد انعامات و میڈلس دیے گئے۔

 

منتظمین کی جانب سے مقابلے میں شریک تمام 88 بچوں کو کتب، سرٹیفکیٹس اور مومنٹوس پیش کیے گئے، جبکہ فرسٹ راؤنڈ میں شارٹ لسٹ ہونے والے 20 شرکاء کو نقد انعامات سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ نمایاں مقامات حاصل کرنے والوں کے لیے میڈلس کا بھی اعلان کیا گیا۔ اول مقام گولڈ میڈل سید حمزہ علی قادری ابن جناب سید امتیاز علی قادری دوم مقام سلور میڈل سید عبدل صفی ابن جناب سید عبدل رزاق, سوم مقام سلور میڈل میر حسنین احمد ابن جناب میر مبشر احمد کو دیا گیا۔

 

ججس میں معروف قاری و نعت خواں انیس احمد انیس، سید نعمان علی، شیخ احمد مصطفیٰ اور شفیع خان قادری شامل تھے، جنہوں نے شرکاء کی نعت خوانی، ادائیگی اور مجموعی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس موقع پر مولانا ڈاکٹر سید سمیع اللہ حسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نعت خوانی میں اصل کامیابی میڈل کی نہیں بلکہ خلوصِ نیت اور عشق رسولؐ کی محتاج ہے، اور تمام شرکاء نے حصہ لے کر اس مقدس روایت کو زندہ رکھا ہے۔ انہوں نے نعت خوانوں کے ادب و احترام اور نعت کی محفل میں نظم و ضبط کا خیال رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ نعت خوانی کو کبھی تجارت یا دکھاوے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ یہ عمل دنیاوی نفع کا نہیں بلکہ آخرت کا سرمایہ ہے۔

 

پروگرام کے کنوینر سید ابوالحسن حسینی نے مقابلے کے بہترین انتظامات اور کامیاب انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس موقع پر یونائیٹڈ والنٹیرس اسوسی ایشن کے صدرنشین سید شاہ شجاعت اللہ حسینی فرحان پاشاہ نے تمام شرکاء، والدین، اساتذہ، مہمانوں اور معاونین کا شکریہ ادا کیا اور اسوسی ایشن کی جانب سے بھارت بھر میں جاری فلاحی و سماجی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام بچوں میں دینی شعور، خود اعتمادی اور نعت خوانی کے ذوق کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button