جرائم و حادثات

’’میرے بیٹے کی قبر میں ہی مجھے بھی دفن کرنا‘‘ سیلفی ویڈیو بنا کر مولا بی نامی خاتون کی خودکشی۔ آندھراپردیش میں واقعہ 

حیدرآباد: آندھرا پردیش کے پرکاشم ضلع میں ایک ماں نے اپنے 11 سالہ بیٹے کی مشتبہ موت کے بعد انصاف کے لیے احتجاج کیا۔

 

اس دوران مبینہ طور پر ہاسٹل انتظامیہ کی جانب سے توہین آمیز رویے سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے خودکشی کر لی۔خودکشی سے پہلے بنائی گئی اپنی سیلفی ویڈیو میں خاتون نے کہا’’میرے بچے کی موت کے ذمہ دار ہاسٹل کے منتظمین ہیں جب میں انصاف کے لیے احتجاج کر رہی تھی تو انہوں نے مجھے گالیاں دیں۔

 

میں نہیں چاہتی کہ کسی اور بچے یا ماں کو ایسی تکلیف سے گزرنا پڑے ان توہین آمیز باتوں کو برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے میں مرنا چاہتی ہوں۔ کم از کم اب میرے بچے کو انصاف ملنا چاہیے۔ جہاں میرے بچے کو دفن کیا گیا ہے وہیں مجھے بھی دفن کرنا۔‘‘مقامی لوگوں کے مطابق یہ واقعہ پرکاشم ضلع کے سنگارایاکونڈہ میں پیش آیا۔

 

خاتون نے جمعرات کی دوپہر جراثیم کش مار دوا پی لی تھی اور علاج کے دوران ہفتے کی صبح اس کی موت ہوگئی۔مارکاپور ضلع کے کنی گیری سے تعلق رکھنے والے علی اور مولابی کے 11 سالہ بیٹے سید توفیق کو جواہر نوودیا داخلہ امتحان کی تیاری کے لیے گزشتہ سال سنگارایاکونڈہ منڈل کے مولگنٹاپاڈو میں واقع سری چیتنیا نوودیا کوچنگ سینٹر میں داخل کرایا گیا تھا۔

 

14 فروری 2026 کو توفیق ہاسٹل کے بیت الخلا میں مشتبہ حالات میں مردہ پایا گیا۔والدین اور دیگر اہلِ خانہ نے الزام لگایا کہ بچے کی موت کے ذمہ دار ہاسٹل کے منتظمین ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے بچے کی لاش کے ساتھ ضلع کلکٹریٹ کے سامنے احتجاج بھی کیا۔اس کے بعد ضلع کلکٹر راجابابو نے تین رکنی کمیٹی قائم کی۔

 

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اسکول کے پاس مطلوبہ اجازت نامے موجود نہیں تھے۔ انتظامیہ کو نوٹس جاری کیے گئے اور ضلعی محکمۂ تعلیمات کے حکام نے ادارے کی منظوری بھی منسوخ کر دی۔والدین نے اپنے بیٹے کی موت کے بارے میں شکوک و شبہات ظاہر کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت کے حکم پر نیلور ضلع کی ایڈیشنل ایس پی سوجنیا نے تحقیقات شروع کیں۔

 

توفیق کی موت کے وقت جس اسکول کو بند کر دیا گیا تھا اسے دوبارہ کھولنے کے لیے موجودہ تعلیمی سال میں انتظامیہ نے اجازتیں حاصل کر لیں۔ مولابی نے الزام لگایا کہ اسکول اور ہاسٹل چلانے کے لیے ضروری اجازتیں موجود نہ ہونے کے باوجود انتظامیہ نے سرکاری عہدیداروں کو رشوت دے کر اسے دوبارہ کھلوایا۔ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مولابی گزشتہ تین ہفتوں سے روزانہ کنی گیری سے آکر ہاسٹل کے سامنے بیٹھ کر دھرنا دے رہی تھیں۔

 

چار دن قبل ہاسٹل کے منتظمین نے مولابی کے خلاف سنگارایاکونڈہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔مولابی کا کہنا تھا کہ اپنے بچے کو کھونے کے باوجود ہاسٹل کے منتظمین انہیں گالیاں دے رہے ہیں۔ اس بات سے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہو کر انہوں نے جمعرات کی دوپہر ہاسٹل کے سامنے ہی زہریلی دوا/کیڑے مار دوا پی لی۔

 

ان کی نگرانی پر تعینات ایک خاتون پولیس اہلکار نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن اس وقت تک مولابی کچھ دوا پی چکی تھیں انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔بعد میں بہتر علاج کے لیے انہیں اونگول سے حیدرآباد منتقل کیا گیا جہاں علاج کے دوران ہفتے کے روز ان کا انتقال ہوگیا۔

 

خودکشی کی کوشش سے قبل مولابی کی بنائی ہوئی سیلفی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ویڈیو میں انہوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اسی جگہ جان دیں گی جہاں ان کے بیٹے کی موت ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی موت کا ذمہ دار ہاسٹل کے منتظمین ان کے خاندان کے افراد اور وارڈن کو قرار دیا۔

 

انہوں نے درخواست کی کہ جہاں ان کے بچے کو دفن کیا گیا ہے وہیں انہیں بھی دفن کیا جائے۔مولابی کی موت کے بعد ان کے ارکان خاندان نے سنگارایاکونڈہ میں احتجاج کیا۔ دوسری جانب ہاسٹل کے منتظمین نے کوچنگ سینٹر بند کر دیا اور مبینہ طور پر شہرعلاقہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button