جنرل نیوز

450 سالہ میراث کے محافظ چل بسے

حیدرآباد ۔بڑے ہی دکھ کے ساتھ یہ خبر پڑھی جائے گی کہ ملک کے مایہ ناز قومی اور ریاستی ایوارڈ یافتہ حیدرآباد کے سپوت مرزا محمد علی بیگ مینچر آرٹسٹ ۸۲ سال میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ مرحوم اپنے فن تصوراتی تصاویر بنانے میں نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں یکتائے روزگار اور شہرہ آفاق رکھتے تھے

 

جنھیں ۹ نومبر ۲۰۱۲ میں صدر جمہوریہ ہند پر نب مگر جی راشٹرا پتی بھون نئی دہلی میں قومی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ مرزا محمد علی بیگ ملک کے ان چند فنکاروں میں سے ایک ہیں جو مینچر آرٹ فن کی روایت کے واحد محافظ تھے۔ مرزا محمد علی بیگ کا روشن چہرہ فن کی دنیا میں ۴۵۰ سال کی شاندار میراث کی عکاسی کرتا تھا۔ وہ ملک کے چند فنکاروں میں سے تھے  اور شاید شہر حیدرآباد کی واحد قد آور شخصیت تھی جو مغلیہ دور ، قطب شاہی دور اور آصف جاہی شہر میں پروان چڑھنے والی فن کی روایت کے واحد محافظ تھے۔

 

فارسی، کانگدا، اجتنا، دکنی، چغتائی اور نرمل آرٹ کی روایات سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔ آپ کی رہائش گاہ یا قوت پورہ میں ہے۔ انھوں نے اپنے چچا مرزا اکبر علی بیگ سے متاثر ہو کر سات سال کی عمر میں پینٹنگ بنانی شروع کی۔ بعد میں پیشہ وارانہ مہارت کے لیے نرمل انڈسٹری ٹریننگ سینٹر میں شمولیت اختیار کی۔ تاہم وہاں موجود تجارتی ماحول کو برداشت نہ کر سکے، اس سینٹر خیر باد کہہ دیا پھر اپنی ایک شناخت بنائی جسے لوگ بیگ صاحب مینچر آرٹسٹ سے یاد کرتے تھے۔

 

بعد ازاں انہوں نے مشہور و معروف مصور اقبال حسین کے زیر سایہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ گھر سے کام کرتے ہوئے وہ ہزاروں شاہکار تخلیق کیے جن سے دنیا بھر کے لوگوں نے اپنے گھروں اور اداروں کو سجایا۔انہوں نے بہت سے اعزازات حاصل کیے ہیں، اور ان کی مغل شہنشاہ شاہجہاں، ملکہ ممتاز محل اور تاج محل کی مائیکرو پینٹنگ جس کا سائز چار انچ ہے، نے انھیں ۲۰۰۴ میں ورلڈ فیڈریشن آف منیا ٹورسٹ کے تیسرے بین الاقوامی مقابلے میں پہلا ایوارڈ جیتا تھا۔

 

مرحوم انتقال سے ایک سال قبل تک بھی چھ سے سات گھنٹے مسلسل کام کرتے رہے۔ وہ اپنا برش خود بناتے تھے۔ ان کے تربیت یافتہ کئی شاگرد ہیں خصوصاً ان کے ایک فرزند مرزا ذوالفقار علی بیگ اس فن کو بڑے ہی مہارت کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں ۔ مرحوم مذکورہ اپنی تمام خوبیوں کے علاوہ صوم و صلاۃ کے پابند اور علماء اور دین دار افراد کے قدردان تھے۔

 

اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات میں اضافہ فرماتے ہوئے انھیں جوار معصومین علیہم السلام میں جگہ عنایت فرمائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button