جنرل نیوز

تقدیر پر ایمان مومن کو صبر و شکر کی دولت عطا کرتا ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

تقدیر پر ایمان مومن کو صبر و شکر کی دولت عطا کرتا ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حیدرآباد، 25 ستمبر (پریس ریلیز):

خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی زندگی خوشی و غم، کامیابی و ناکامی، صحت و بیماری اور فراخی و تنگی کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ ایسے حالات میں ایک مومن کو جو عقیدہ ثابت قدم رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اچھی اور بری تقدیر پر ایمان ہے۔ تقدیر پر ایمان انسان کو حالات کے اتار چڑھاؤ میں صبر، شکر اور اللہ تعالیٰ پر توکل کی تعلیم دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ»، یعنی ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ اندازے کے ساتھ پیدا فرمایا۔ مسلمان کا عقیدہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم، مشیت، قدرت اور حکمت سے باہر نہیں۔ تاہم تقدیر پر ایمان کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوجائے یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔

مولانا نے کہا کہ اسلام انسان کو جدوجہد، جائز اسباب اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اِحْرِصْ عَلٰى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَلَا تَعْجَزْ» یعنی جو چیز تمہیں نفع دے اس کے حصول کی کوشش کرو، اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ اس لیے کوشش بندے کی، توفیق اللہ کی؛ اسباب اختیار کرنا بندے کا اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقدیر کو گناہ کا بہانہ بنانا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ یہ کہنا کہ ’’اگر میرے مقدر میں نیک ہونا ہوگا تو میں خود نیک ہوجاؤں گا‘‘ درست نہیں۔ انسان کو نیکی اختیار کرنے، برائی سے بچنے، اپنی اصلاح کرنے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں زندگی گزارنے کی مسلسل کوشش کرنی چاہیے۔ تقدیر پر ایمان انسان کو عمل سے نہیں روکتا بلکہ نیک عمل کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

اس ضمن میں ایک سبق آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں شام کے سفر کے دوران اطلاع ملی کہ وہاں وبا پھیل گئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد مدینہ واپس جانے کا فیصلہ فرمایا۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’اے امیرالمؤمنین! کیا آپ اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کررہے ہیں؟‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ہم اللہ کی تقدیر ہی سے اللہ کی تقدیر کی طرف جاتے ہیں۔‘‘ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس اونٹوں کا ایک ریوڑ ہو اور ایک طرف ایسی وادی ہو جہاں سبزہ ہو اور دوسری طرف خشک زمین، تو تم سبزہ والی جگہ پر اونٹ چراؤ گے یا خشک زمین میں؟ اگر تم سبزہ والی جگہ اختیار کرو تو وہ بھی اللہ کی تقدیر ہے اور خشک زمین اختیار کرو تو وہ بھی اللہ کی تقدیر ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر پر ایمان کا مطلب اسباب چھوڑ دینا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے درست اور محفوظ اسباب اختیار کرنا ہے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ مصیبت اور ناکامی کے وقت مسلمان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے مواقع پر «قَدَرُ اللّٰهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ» کہنے کی تعلیم دی، یعنی یہ اللہ کی تقدیر ہے اور اس نے جو چاہا وہ کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ماضی کے ’’کاش‘‘ اور بے فائدہ حسرتوں میں اپنی زندگی ضائع نہ کرے، بلکہ غلطی سے سبق حاصل کرکے آئندہ بہتر کوشش کرے۔

انہوں نے کہا کہ دعا بھی تقدیر ہی کے نظام کا حصہ ہے۔ علاج کے لیے دوا لینا، تعلیم کے لیے محنت کرنا، روزگار کے لیے کوشش کرنا، اولاد کی تربیت کرنا اور دیگر جائز اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں۔ حقیقی توکل یہ ہے کہ انسان اپنی ذمہ داری پوری کرے، اسباب اختیار کرے، دعا کرے اور پھر نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کی عقل اور علم محدود ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم کامل اور غیر محدود ہے۔ قرآن مجید ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ممکن ہے انسان کسی چیز کو ناپسند کرے حالانکہ اس میں اس کے لیے خیر ہو، اور ممکن ہے کسی چیز کو پسند کرے حالانکہ اس میں اس کے لیے نقصان ہو۔ «وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» یعنی اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ لہٰذا مومن کو اللہ تعالیٰ کی حکمت پر اعتماد رکھنا چاہیے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ کامیابی ملے تو تکبر کے بجائے شکر، ناکامی آئے تو مایوسی کے بجائے دوبارہ کوشش، مصیبت آئے تو صبر و دعا، غلطی ہوجائے تو توبہ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط رکھنا چاہیے۔ تقدیر کا صحیح عقیدہ انسان کو کوشش میں استقامت، مصیبت میں صبر اور کامیابی میں شکر کی دولت عطا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مستقبل کا مکمل علم نہیں، لیکن ہمیں اپنے رب کی رحمت، قدرت اور حکمت پر یقین ہے۔ اس لیے تقدیر پر ایمان امید کا دروازہ بند نہیں کرتا بلکہ مومن کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے وابستہ رہے اور نیکی کی کوشش جاری رکھے۔

آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اچھی اور بری تقدیر پر صحیح ایمان رکھنے، ہر حال میں صبر و شکر کرنے، جائز اسباب اختیار کرنے، نیک اعمال کی توفیق حاصل کرنے اور ایمان و اسلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button