Uncategorized

بینک ملازمین کی ہڑتال کے دوران سائبر فراڈ کا خطرہ ۔ ان احتیاط پر عمل کریں اکاونٹ خالی

نئی دہلی: سرکاری شعبے کے بینک ملازمین کی ہڑتال کے پیش نظر سائبر جرائم میں اضافے کا خطرہ ہے۔ بینک اس ماہ کی 28 تاریخ سے مسلسل بند رہنے والے ہیں جس کے باعث صارفین لین دین کے لیے یو پی آئی ، انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ اور نقد رقم کے لیے اے ٹی ایم کا زیادہ استعمال کرسکتے ہیں۔

 

عام دنوں کے مقابلے میں آن لائن لین دین میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ سائبر جرائم پیشہ افراد اسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف طریقوں اور ناموں سے صارفین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرسکتے ہیں، جس پر پولیس نے خبردار کیا ہے۔

 

سائبر مجرم خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے آن لائن مختلف خدمات فراہم کرنے کے نام پر جعلی اشتہارات اور پیغامات جاری کر رہے ہیں۔ پولیس نے صارفین کو محتاط رہنے اور اگر کسی قسم کے آن لائن فراڈ کا شکار ہوجائیں تو فوری طور پر شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا ہے۔

 

فراڈ کے عام طریقے
مجرم یہ کہہ کر صارفین کو خوف زدہ اور جلد بازی پر مجبور کرتے ہیں کہ ’’آپ کا بینک اکاؤنٹ عارضی طور پر منجمد کردیا گیا ہے۔ اگر اسے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا تو آج سے آپ کے کارڈ کام نہیں کریں گے۔‘‘ اس بہانے وہ اے ٹی ایم پن، سی وی وی اور دیگر حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

بینک کی شکایت یا کسٹمر کیئر نمبر حاصل کرنے کے لیے آن لائن سرچ کرکے سامنے آنے والے کسی بھی نمبر پر کال نہ کریں۔ سائبر مجرم جعلی کسٹمر کیئر نمبروں کے ذریعے صارفین کو دھوکہ دیتے ہیں۔

 

کسٹمر کیئر سے رابطے کے لیے پاس بک، ڈیبٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ پر درج سرکاری نمبر استعمال کریں۔بعض مجرم یہ کہہ کر کہ نیٹ ورک کے مسئلے کی وجہ سے آن لائن بینکنگ خدمات متاثر ہورہی ہیں

 

متبادل لنک کے ذریعے لاگ اِن کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور دھوکے سے اے پی کے فائلیں بھیجتے ہیں۔ ایسی فائلیں انسٹال کرکے صارفین کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

 

فوری طور پر رقم کی ضرورت ہونے کی صورت میں غیر معروف لون ایپس سے قرض لینے سے گریز کریں کیونکہ ایسی ایپس کے ذریعے بھی فراڈ کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

 

فراڈ کا شکار ہوجائیں تو کیا کریں؟
اگر آپ کسی سائبر فراڈ کا شکار ہوجائیں تو فوری طور پر 1930 ٹول فری نمبر پر شکایت درج کریں۔ جتنی جلدی اطلاع دی جائے، رقم کی منتقلی روکنے یا مزید نقصان سے بچنے کے امکانات اتنے ہی بہتر ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button