نیشنل

مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ کیس: مسلم ملزمین کے ڈسچارج پر بامبے ہائی کورٹ کے تبصرے پر سپریم کورٹ کی روک : مولانا حلیم اللہ قاسمی

مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ مقدمہ

مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے مسلم ملزمین کے خلاف کیئے گئے بامبے ہائی کور ٹ کے تبصرے پر سپریم کورٹ کی روک

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جزوی کامیابی، بم دھماکہ متاثرین کو انصاف ملے اس کی بھی کوشش کی جائے گی، مولانا حلیم اللہ قاسمی

نئی دہلی 1/ اکتوبر/ مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ مقدمہ سے گذشتہ ماہ ڈسچارج کیئے گئے چا رملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرماکے خلاف بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی، اسی طرح مقدمہ سے ڈسچارج کئے گئے مسلم ملزمین کے خلاف دیئے گئے ہائی کورٹ کے تبصرے کو حذف کرنے کی پٹیشن بھی داخل کی گئی تھی

 

جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ مسلم ملزمین کے خلاف زیر سماعت اپیل پر ہائی کورٹ کے حالیہ تبصرے سے متاثر ہوئے بغیر سماعت کرے، مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے 9/ مسلمانوں کے خلاف مہاراشٹر اے ٹی ایس اور دھان سنگھ و دیگر نے بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے۔سپریم کورٹ آف انڈیا کی ددرکنی بینچ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپول پنچولی کے سامنے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن اور سادان فراست نے بحث کی

 

۔ بم دھماکہ متاثرین اور مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے مسلم ملزمین کی جانب سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) نے قانونی پیروی کی۔آج دوران سماعت ایڈوکیٹ سادان فراست نے دو رکنی بینچ کو بتایا کہ گذشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے چار ملزمین(دھان سنگھ و دیگر) کو مقدمہ سے نا صرف ڈسچارج کردیا تھا بلکہ اپنے فیصلے میں مسلم ملزمین کے خلاف کچھ تبصرے بھی کئے تھے، یہ تبصرے مسلم ملزمین کی غیر موجودگی میں انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع دیئے بغیر کئے گئے تھے لہذا عدالت بامبے ہائی کورٹ کے ان تبصروں کو حذف کرے۔ایڈوکیٹ سادان فراست کی درخواست پر دو رکنی بینچ نے حکم جاری کیاکہ بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کیئے گئے تبصر ے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے ملزمین نورالہدی ا وردیگر کے ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز نہیں ہونگے اور ہائی کورٹ ا پیلوں پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔سینئر ایڈوکیٹ سادان فراست کی بحث کے اختتام کے بعد سینئر ایڈوکیٹ نتیار اما کرشنن نے بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا جبکہ ٹرائل کورٹ میں ان کے خلاف چارج فریم ہوچکا تھا۔

 

دو رکنی بینچ نے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کو ہدایت دی کہ وہ بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے داخل اپیلوں پر اگلے ہفتہ بحث کرے اور مقدمہ کی سماعت ملتوی کردی۔

 

آج کی عدالتی کارروائی پر ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے، بم دھماکہ متاثرین اور 2016/ میں مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے ملزمین نورالہدا، محمد علی شیخ، آصف بشیر اور محمد زاہد اور ئیس احمد نے مولانا عبدالقیوم کے توسط سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا جائے۔

 

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے سپریم کورٹ میں چار پٹیشن (ایس ایل پی) داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی اور مقدمہ کی موثر قانونی پیروی کے لیئے ملک کے نامور کریمنل وکلاء کی خدمت حاصل کی گئی تھی جس کے نتیجے میں آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی پیروی کے نتیجے میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کیئے گئے 9/ مسلم نوجوانوں کو پہلے ضمانت پر رہا کرایا گیا تھا پھر اس کے بعد انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کرایا گیا لیکن اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ملزمین اور مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مسلم ملزمین کے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا جس پر سماعت چل رہی ہے۔

 

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ انہیں بہت کم امید ہے کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو این آئی اے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کریگی کیونکہ این آئی اے نے مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ میں بری ہونے والے ملزمین کے خلاف ابتک ہائی کورٹ میں اپیل داخل نہیں کی ہے اس کے برعکس بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں اپیل داخل کردی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔8/ ستمبر 2006/ کو حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان اور مشاورت چوک میں ہوئے سلسلہ واربم دھماکوں میں 31/ لوگ شہید ہوئے تھے جبکہ 312/ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button