نیشنل

خواتین مسافرین کی حفاظت پر قومی کمیشن برائے خواتین کا سخت ایکشن پلان۔ ریاستوں کو مکتوب

نئی دہلی: قومی کمیشن برائے خواتین نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ ایپ پر مبنی گاڑیوں میں سفر کرنے والی خواتین کی حفاظت کے معاملے میں انتہائی محتاط رہیں اور سخت حفاظتی ضوابط نافذ کریں۔

 

کمیشن نے کہا کہ ’’خواتین کو پبلک ٹرانسپورٹ ہو یا ایپ پر مبنی گاڑیاں، ہر جگہ بلا خوف و خطر اور آزادی کے ساتھ سفر کرنے کا ماحول ملنا چاہیے۔ ٹیکنالوجی لوگوں کے سفر کے طریقوں کو تبدیل کر رہی ہے ایسے وقت میں ان کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے

 

اس مقصد کے لیے ریاستی حکومت کے محکموں پولیس اور ٹرانسپورٹ نظام کو باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ ہر خاتون کو محفوظ باوقار اور اعتماد کے ساتھ سفر کرنے کا ماحول فراہم کرنا ٹرانسپورٹ نظام کی ذمہ داری ہے۔‘‘خواتین کی حفاظت سے متعلق کمیشن کی جانب سے تیار کردہ

 

رہنمایانہ اصولوں پر لازمی عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن وجیا راہتکر نے تمام ریاستوں کے چیف سیکریٹریس کو خط لکھا ہے۔ کمیشن نے اس سلسلے میں 19 نکاتی رہنمایانہ اصول جاری کیے ہیں۔

1. ٹرانسپورٹ کمپنی اس بات کو یقینی بنائے کہ گاڑی وہی شخص چلا رہا ہے جسے باضابطہ طور پر ڈرائیور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
2. اگر ایپ پر دکھائی جانے والی گاڑی اور ڈرائیور کی تفصیلات اصل گاڑی یا ڈرائیور سے مطابقت نہ رکھتی ہوں تو مسافر کو بغیر کسی فیس کے سفر منسوخ کرنے کی سہولت دی جائے۔

 

3. تمام ڈرائیوروں کے پس منظر اور مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ کی جائے۔
4. ڈرائیوروں کو خواتین کے ساتھ مناسب اور باوقار برتاؤ کے حوالے سے باقاعدگی سے آگاہی اور تربیتی پروگرام دیے جائیں۔

 

5. ایپ چلانے والی کمپنیاں خواتین ڈرائیوروں کا ایک الگ پول قائم کریں اور خواتین کو اکیلے سفر کرتے وقت خاتون ڈرائیور منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے۔
6. رات کے اوقات میں گاڑی چلانے والے ڈرائیوروں کی نگرانی اور جانچ کے لیے مناسب نظام موجود ہونا چاہیے۔
7. کار پولنگ کے دوران یہ یقینی بنانا ایپ ایگریگیٹرز کی ذمہ داری ہوگی کہ گاڑی میں کوئی مشتبہ شخص موجود نہ ہو۔
8. اگر ڈرائیور مقررہ راستے سے ہٹتا ہے تو ایپ انتظامیہ کو ریئل ٹائم الرٹ موصول ہونے کے لیے ضروری تکنیکی نظام تیار کیا جائے۔

 

9. اگر گاڑی کسی جگہ غیر معمولی طور پر طویل عرصے تک رکی رہے یا غیر معمولی راستے پر سفر کرے تو اسے فوری طور پر شناخت کرنے کا نظام قائم کیا جائے۔
10. ہنگامی کالز پر فوری کارروائی کے لیے 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن (24×7) کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا جائے۔
11. کسی ہنگامی صورت حال میں کمپنیوں کو مسافر، ڈرائیور، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر اور مسافر کی موجودہ لوکیشن سے متعلق معلومات پولیس اہلکاروں کے ساتھ شیئر کرنی چاہییں۔

 

12. ایپ میں مسافروں کو واضح طور پر نظر آنے والا ایمرجنسی بٹن موجود ہونا چاہیے۔
13. بزرگ مسافروں کے معاملے میں ڈرائیوروں کو ہدایت دی جائے کہ وہ اس وقت تک انتظار کریں جب تک بزرگ مسافر محفوظ طریقے سے گاڑی میں سوار یا گاڑی سے اتر نہ جائیں۔
14. ڈرائیور کو سفر کسی غیر مجاز، سنسان یا غیر محفوظ مقام پر ختم نہیں کرنا چاہیے۔

 

15. ڈرائیور کے بدسلوکی، ہراسانی، حملے، راستہ تبدیل کرنے، غیر مجاز ڈرائیور یا گاڑی تبدیل کرنے اور ہنگامی مدد دستیاب نہ ہونے سے متعلق شکایات کے لیے ایک خصوصی شکایتی نظام قائم کیا جائے۔
16. جہاں پولیس کی مداخلت ضروری ہو وہاں لازمی طور پر پولیس کی مدد حاصل کی جائے۔

 

17. حفاظتی نوعیت کی شکایت موصول ہونے کی صورت میں ایپ چلانے والی کمپنی تمام متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھے۔
18. خواتین کے تحفظ سے متعلق اقدامات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے اور ضروری ریکارڈ باقاعدگی سے برقرار رکھا جائے۔
19. حفاظتی پروٹوکول اور معیاری عملی طریقۂ کار (SOP) کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور بدلتے حالات کے مطابق ان میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں۔

 

قومی کمیشن برائے خواتین کی ان ہدایات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایپ پر مبنی ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ خواتین کی حفاظت کو محض ایک سہولت نہیں بلکہ بنیادی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے۔

 

ڈرائیور کی شناخت، مجرمانہ پس منظر کی جانچ، ریئل ٹائم نگرانی، ایمرجنسی رسپانس اور شکایات کے مؤثر ازالے جیسے اقدامات کے ذریعے خواتین کے لیے محفوظ اور بااعتماد سفری ماحول یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button