مضامین

 عالمی یومِ ذہنی صحت — پُرسکون ذہن، خوش حال زندگی

عالمی یومِ ذہنی صحت — پُرسکون ذہن، خوش حال زندگی

از: ڈاکٹر تبریز حسین تاج

اسسٹنٹ پروفیسر، مانو حیدرآباد

زندگی کی خوب صورتی صرف دولت، کامیابی، شہرت یا آسائشوں میں نہیں، بلکہ اس سکون میں بھی پوشیدہ ہے جو انسان کو اپنے اندر محسوس ہوتا ہے۔ کبھی کسی بچے کی معصوم مسکراہٹ، کبھی ماں کی شفقت، کبھی دوست کی محبت بھری بات اور کبھی فطرت کے خاموش مناظر ہمارے دل کا بوجھ ہلکا کر دیتے ہیں۔ لیکن آج کی تیز رفتار زندگی میں انسان نے دنیا سے رابطے تو بہت بڑھا لیے ہیں، مگر خود اپنے دل کی آواز سننے کے لیے وقت کم کر دیا ہے۔

صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل فون، دن بھر کام کا دباؤ، مستقبل کی فکر، معاشی پریشانیاں، دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ اور رات گئے تک اسکرین سے جڑے رہنے کی عادت نے ہماری زندگی کو مصروف تو بنا دیا ہے، لیکن ذہنی سکون کو ایک بڑا چیلنج بھی بنا دیا ہے۔ ایسے میں ہمیں یاد دلانے کے لیے ہر سال 10 اکتوبر کو عالمی یومِ ذہنی صحت (World Mental Health Day) منایا جاتا ہے کہ جس طرح جسم کی صحت ضروری ہے، اسی طرح ذہن کی صحت بھی ہماری زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔

یہ دن محض ایک عالمی مناسبت نہیں، بلکہ اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کا موقع ہے کہ کیا ہم اپنے ذہن، اپنے جذبات اور اپنے پیاروں کی ذہنی کیفیت کا بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا اپنی جسمانی صحت کا رکھتے ہیں؟

 

ذہنی صحت کے بارے میں عالمی اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

 

ذہنی صحت کا مسئلہ کسی ایک ملک، طبقے یا عمر تک محدود نہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی 2023 کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 1.2 ارب افراد، یعنی ہر سات میں سے ایک شخص، کسی نہ کسی ذہنی عارضے کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔ ان میں بے چینی اور ڈپریشن عام ذہنی عوارض میں شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ذہنی صحت کو نظر انداز کرنا ایک فرد ہی نہیں، پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ (World Health Organization)

 

 

 

ہندوستان میں بھی صورتِ حال توجہ طلب ہے۔ نیشنل مینٹل ہیلتھ سروے 2015-16 کے مطابق، 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں تقریباً 10.6 فیصد افراد ذہنی عوارض سے متاثر ہیں۔ یہ سروے پرانے اعداد و شمار پر مبنی ہے، اس لیے اسے موجودہ سال کی شرح نہیں سمجھنا چاہیے، لیکن یہ ملک میں ذہنی صحت کی اہمیت کو ضرور نمایاں کرتا ہے۔

بچوں اور نوجوانوں کی صورتِ حال بھی خاص توجہ کی متقاضی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا بھر میں 10 سے 19 سال کی عمر کے تقریباً ہر سات میں سے ایک نوجوان کو کسی نہ کسی ذہنی عارضے کا سامنا ہوتا ہے۔ بے چینی، ڈپریشن اور رویّوں سے متعلق مسائل ان کی تعلیم، تعلقات اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار ہمیں خوف زدہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ یہ سمجھانے کے لیے ہیں کہ ذہنی صحت پر بات کرنا، بروقت مدد لینا اور ایک دوسرے کا سہارا بننا آج کی اہم ضرورت ہے۔

 

عالمی یومِ ذہنی صحت منانے کی اہمیت۔۔۔۔

ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور اس سے جڑے سماجی تعصب کو کم کرنے کے لیے یہ دن ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ ذہنی پریشانی کوئی شرم کی بات نہیں، نہ ہی یہ کمزوری کی علامت ہے۔ جس طرح بخار، ذیابیطس یا دل کی بیماری کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا ہے، اسی طرح مسلسل بے چینی، ڈپریشن اور دوسری ذہنی مشکلات میں بھی ماہرین کی مدد لینا ضروری ہے۔

ہمارے معاشرے میں بعض اوقات ذہنی پریشانی کا شکار شخص کو یہ کہہ کر خاموش کر دیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ سوچتا ہے، کمزور دل ہے یا اسے بس مثبت سوچنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پریشانی صرف مثبت سوچ سے ختم نہیں ہوتی۔ بعض حالات میں انسان کو خاندان کے تعاون، ماہرِ نفسیات کی رہنمائی، ڈاکٹر کے علاج اور ایک محفوظ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔

کسی پریشان انسان کو نصیحت سے پہلے توجہ، فیصلے سے پہلے ہمدردی اور تنقید سے پہلے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی کسی کی بات خاموشی سے سن لینا بھی اس کے لیے بہت بڑا سہارا بن جاتا ہے۔

 

موبائل فون اور بچوں کی ذہنی صحت: ایک اہم چیلنج

 

آج کے دور میں موبائل فون تعلیم، معلومات اور رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ بچے اس کے ذریعے نئی چیزیں سیکھتے ہیں، تعلیمی ویڈیوز دیکھتے ہیں اور دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ لیکن جب موبائل فون کا استعمال ضرورت سے بڑھ جائے، یا بچے اس کے ذریعے نقصان دہ مواد اور منفی تجربات کا سامنا کریں، تو ان کی ذہنی اور جذباتی صحت متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

ذرا ایک ایسے بچے کا تصور کیجیے جو اسکول سے گھر آتا ہے۔ اسے والدین کے ساتھ باتیں کرنی ہیں، کھیلنا ہے، اپنے دن کے تجربات بتانے ہیں، مگر گھر کے افراد بھی اپنے اپنے موبائل فون میں مصروف ہیں۔ بچہ بھی فون اٹھا لیتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کی دنیا اسکرین تک محدود ہونے لگتی ہے۔ کھیل کے میدان، دوستوں کے ساتھ حقیقی گفتگو، کتابیں، تخلیقی سرگرمیاں اور خاندان کے ساتھ گزارے جانے والے لمحات کم ہونے لگتے ہیں۔یہ صورتِ حال ہر بچے کے ساتھ یکساں نہیں ہوتی، لیکن والدین کے لیے اس پر توجہ دینا ضروری ہے۔

 

بچوں پر موبائل فون کے ممکنہ نفسیاتی اثرات

نیند میں خلل: رات دیر تک فون استعمال کرنے سے نیند کا معمول متاثر ہو سکتا ہے۔ ناکافی نیند بچوں میں چڑچڑاپن، تھکن اور توجہ کی کمی کا سبب بن سکتی ہے۔

بے چینی اور ذہنی دباؤ: سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگی، ظاہری شکل، کامیابیوں اور مقبولیت کو دیکھ کر بعض بچے اپنے آپ کا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ اس سے احساسِ کمتری یا پریشانی بڑھ سکتی ہے۔

سائبر بُلنگ اور آن لائن ہراسانی: انٹرنیٹ پر مذاق اڑانا، دھمکیاں دینا، توہین آمیز پیغامات بھیجنا یا کسی بچے کو دوسروں سے الگ تھلگ کرنا اس کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

توجہ اور روزمرہ معمولات میں تبدیلی: بار بار نوٹیفکیشن دیکھنا، مختصر ویڈیوز مسلسل بدلتے ہوئے دیکھنا اور ہر وقت فون کی طرف متوجہ رہنا بعض بچوں کے لیے پڑھائی، کھیل اور دوسرے کاموں پر توجہ مرکوز کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔

تنہائی اور جذباتی فاصلے: آن لائن رابطہ حقیقی انسانی تعلق کا مکمل متبادل نہیں۔ اگر موبائل کے استعمال کے باعث خاندان، دوستوں اور جسمانی سرگرمیوں کے لیے وقت کم ہو جائے تو بعض بچے تنہائی محسوس کر سکتے ہیں۔

یونیسیف کی جون 2025 میں شائع ہونے والی تحقیق پر مبنی رپورٹ ایک اہم پہلو واضح کرتی ہے: صرف اسکرین کے سامنے گزارے گئے وقت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بچے کی ذہنی صحت لازماً خراب ہوگی۔ آن لائن ہراسانی، جنسی استحصال، نقصان دہ مواد اور بچوں کے آن لائن تجربات بھی اہم عوامل ہیں۔ اس لیے مسئلے کا حل صرف فون چھین لینا نہیں، بلکہ بچوں کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا، ان کی سرگرمیوں کو سمجھنا اور ان سے کھل کر بات کرنا ہے۔

والدین بچوں کو ذہنی دباؤ سے کیسے بچائیں؟

 

سب سے پہلے بچوں کو یہ احساس دلائیں کہ ان کی بات سنی جاتی ہے اور ان کے جذبات اہم ہیں۔ اگر بچہ پریشان ہے تو فوراً ڈانٹنے یا اس کا فون چھین لینے کے بجائے اس سے پوچھیں کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے اور کیوں۔

گھر میں موبائل فون کے استعمال کے لیے مناسب اوقات مقرر کریں، خصوصاً کھانے اور سونے سے پہلے۔

کم عمر بچوں کے لیے عمر کے مطابق مواد اور والدین کی نگرانی کا اہتمام کریں۔

بچوں کو روزانہ کھیل کود، جسمانی سرگرمیوں، کتابوں اور تخلیقی مشاغل کے مواقع دیں۔

والدین خود بھی موبائل فون کے استعمال میں توازن پیدا کریں، کیونکہ بچے اکثر بڑوں کی عادتوں سے سیکھتے ہیں۔

بچوں کو آن لائن ہراسانی، اجنبی افراد سے رابطے اور ذاتی معلومات شیئر کرنے کے خطرات سمجھائیں۔

اگر بچہ مسلسل اداس رہے، لوگوں سے کٹنے لگے، نیند یا پڑھائی میں نمایاں تبدیلی آئے، یا اس کے رویّے میں غیر معمولی فرق نظر آئے تو اس کی بات سنیں اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

یاد رکھیے، بچے کو صرف مہنگا فون، اچھا اسکول اور بہتر سہولتیں دینا کافی نہیں۔ اسے ایسا گھر بھی چاہیے جہاں وہ بلا خوف اپنی بات کہہ سکے، اپنی ناکامیوں کا ذکر کر سکے اور اپنی پریشانیوں کے ساتھ والدین کے پاس آ سکے۔

 

ذہنی سکون کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود کو بھی وقت دیں

ذہنی صحت کی حفاظت کے لیے ہمیشہ بڑے اقدامات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بھی ہمارے احساسات اور طرزِ زندگی پر اچھا اثر ڈال سکتی ہیں۔

روزانہ کچھ وقت چہل قدمی، ورزش یا قدرتی ماحول میں گزاریں۔

نیند کا مناسب معمول بنائیں اور سونے سے پہلے موبائل فون سے فاصلہ رکھیں۔

اپنے جذبات کو دبانے کے بجائے کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات کریں۔

دوسروں کی زندگی سے اپنا موازنہ کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں اور اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کی قدر کریں۔

کام کے درمیان وقفہ لیں اور ہر وقت خود سے بہترین کارکردگی کی توقع نہ رکھیں۔

بچوں اور بزرگوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور انہیں اپنی محبت کا احساس دلائیں۔

 

یاد رکھیے، آرام کرنا وقت ضائع کرنا نہیں، بلکہ خود کو دوبارہ توانائی دینے کا ایک طریقہ ہے۔ ہر مسئلے کا حل فوراً تلاش کرنا ضروری نہیں۔ کبھی رک کر سانس لینا، اپنے احساسات کو سمجھنا اور کسی اپنے سے بات کرنا بھی ذہن کو سکون دے سکتا ہے۔

اگر اداسی، بے چینی، خوف یا نیند کے مسائل مسلسل برقرار رہیں اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ہندوستان میں حکومت کی ٹیلی مانس ہیلپ لائن 14416 پر مفت، خفیہ اور چوبیس گھنٹے ذہنی صحت سے متعلق مدد حاصل کی جا سکتی

ہے۔

یک صحت مند معاشرے کی بنیاد، ذہنی طور پر صحت مند انسان

 

ذہنی صحت کی ذمہ داری صرف فرد کی نہیں، بلکہ خاندان، تعلیمی اداروں، کام کی جگہوں اور پورے معاشرے کی ہے۔ اسکولوں میں بچوں کے جذباتی مسائل کو سمجھنا، تعلیمی دباؤ کو متوازن رکھنا، کام کی جگہوں پر ملازمین کی ذہنی کیفیت کا خیال رکھنا اور علاج کی سہولتوں کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

والدین کو چاہیے کہ بچوں کی کامیابیوں کے ساتھ ان کی خوشی کو بھی اہمیت دیں۔ ہر بچہ اول نمبر حاصل نہیں کر سکتا، ہر نوجوان ایک ہی رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور ہر انسان ہر روز مضبوط نہیں رہ سکتا۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک موقع ہے۔

اسی طرح ہمیں ایسے ماحول کی تشکیل کرنی چاہیے جہاں کوئی شخص ذہنی پریشانی کے باعث خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔ کسی کی بات سننا، اس کی کیفیت کو سمجھنا اور ضرورت کے وقت اس کا ہاتھ تھامنا انسانیت کی بنیادی خوب صورتی ہے۔

 

آئیے، اس عالمی یومِ ذہنی صحت پر ایک عہد کریں

 

آئیے، اس 10 اکتوبر کو ہم عہد کریں کہ اپنے ذہن کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں گے جتنی اپنے جسم کو دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کو صرف اسکرین نہیں، اپنا وقت بھی دیں گے۔ اپنے بزرگوں کو صرف سہولتیں نہیں، اپنی توجہ بھی دیں گے۔ اور اپنے آس پاس کسی پریشان شخص کو دیکھ کر اس کا مذاق اڑانے یا اسے کمزور سمجھنے کے بجائے اس کی بات سننے کی کوشش کریں گے۔

زندگی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی کامیابی ملتی ہے، کبھی ناکامی؛ کبھی خوشی نصیب ہوتی ہے، کبھی غم۔ لیکن ہر مشکل کے درمیان امید کی ایک کرن باقی رہتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس کرن کو بجھنے نہ دیں۔

یاد رکھیے، ذہنی صحت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی اداس نہ ہو، کبھی پریشان نہ ہو یا کبھی تھک نہ جائے۔ ذہنی صحت کا مطلب یہ ہے کہ مشکل وقت میں بھی انسان کو سہارا ملے، اپنی کیفیت بیان کرنے کا موقع ملے اور بہتر ہونے کی امید باقی رہے۔

آئیے، ایک ایسا معاشرہ بنائیں جہاں ذہنی صحت پر بات کرنا کمزوری نہیں بلکہ شعور کی علامت ہو، مدد مانگنا شرمندگی نہیں بلکہ ہمت سمجھی جائے، اور ہر انسان کو یہ احساس ہو کہ اس کی زندگی، اس کے جذبات اور اس کا سکون اہم ہیں۔

کیونکہ آخرکار، پُرسکون ذہن ہی زندگی کی خوب صورتی کو پوری طرح محسوس کر سکتا ہے، اور ایک دوسرے کے لیے محبت، احترام اور ہمدردی ہی اس سکون کی سب سے خوب صورت بنیاد ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button