10اکتوبر تاریخِ عالم کا ایک اہم دن ہے تاریخی واقعات، علمی و فنی کارنامے اور آزادی کی جدوجہد انسانی تہذیب کے ارتقا کے روشن ابواب ہیں: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

10 اکتوبر تاریخِ عالم کا ایک اہم دن ہے
تاریخی واقعات، علمی و فنی کارنامے اور آزادی کی جدوجہد انسانی تہذیب کے ارتقا کے روشن ابواب ہیں: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، 10 اکتوبر (پریس ریلیز):
تاریخ محض گزرے ہوئے ایام اور بیتے ہوئے واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ انسانی تہذیب و تمدن، علم و فن، عزم و حوصلے اور جدوجہد و قربانی کی ایک ایسی آئینہ دار داستان ہے جس کے اوراق میں قوموں کے عروج و زوال، شخصیات کے کارنامے اور معاشرتی تبدیلیوں کے نقوش محفوظ ہیں۔ تاریخ کے ہر دن کی اپنی ایک معنویت ہوتی ہے، جو انسان کو ماضی سے سبق حاصل کرنے، حال کو سنوارنے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے 10 اکتوبر کے تاریخی واقعات کی مناسبت سے اپنے بیان میں کہا کہ یہ دن دنیا کی تاریخ میں کئی اہم واقعات، علمی و فنی خدمات اور سیاسی تبدیلیوں کی یاد دلاتا ہے۔ 10 اکتوبر 1813ء کو اٹلی کے مشہور موسیقار جوزیپے وردی کی ولادت ہوئی، جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے موسیقی کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی ترجمان ہے کہ فن اور تخلیق انسانی تہذیب کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 10 اکتوبر 1845ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بحری اکیڈمی کے قیام نے عسکری تعلیم و تربیت کے میدان میں ایک اہم باب کا اضافہ کیا۔ یہ واقعہ اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی اور سلامتی کے لیے معیاری تعلیم، منظم تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
مولانا صابر پاشاہ قادری نے 1911ء کے چینی انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین میں اس دور کی سیاسی جدوجہد نے صدیوں پرانے شاہی نظام کے خاتمے اور جمہوری تبدیلیوں کی راہ ہموار کی۔ تاریخ کے ایسے واقعات بتاتے ہیں کہ جب معاشروں میں تبدیلی کی خواہش قوت پکڑتی ہے تو سیاسی اور سماجی نظام بھی نئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے لگتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 10 اکتوبر 1964ء کو جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں سمر اولمپکس کا افتتاح ہوا۔ ایشیا میں منعقد ہونے والے ان اولمپک کھیلوں نے بین الاقوامی کھیلوں کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ کھیل جسمانی صحت، نظم و ضبط، باہمی احترام اور عالمی اخوت کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ قوموں کے درمیان صحت مند مسابقت اور تعاون کا جذبہ امن و اتحاد کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 10 اکتوبر 1970ء کو بحرالکاہل کے جزیرہ نما ملک فجی نے برطانوی اقتدار سے آزادی حاصل کی۔ آزادی کسی بھی قوم کے لیے محض سیاسی خودمختاری کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنی شناخت، تہذیب، زبان اور قومی وقار کے تحفظ کی ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے۔ آزاد قوموں کی ترقی کا انحصار تعلیم، دیانت، اتحاد اور اجتماعی جدوجہد پر ہوتا ہے۔
مولانا صابر پاشاہ قادری نے 10 اکتوبر 1992ء کو کولکاتا میں دریائے ہوگلی پر تعمیر شدہ ودیاساگر سیتو کے افتتاح کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پلوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کی تعمیر صرف شہروں اور علاقوں کو باہم مربوط نہیں کرتی، بلکہ یہ معاشی ترقی، عوامی سہولت اور سماجی روابط کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح 10 اکتوبر 2010ء کو نیدرلینڈز اینٹیلز کی تحلیل اور اس خطے کے جزائر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی سیاسی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔
معروف شخصیات کے تذکرے میں انہوں نے ناروے کے مہم جو، سائنس داں اور انسانی خدمت گزار فریڈٹجوف نانسن، معروف برطانوی ڈرامہ نگار اور نوبل انعام یافتہ ہیرالڈ پنٹر، امریکی اداکار و ہدایت کار اورسن ویلز، اداکار کرسٹوفر ریو اور گلوکار سولومن برک کی زندگیوں اور خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اپنے اپنے میدان میں انسانی معاشرے پر اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان کے کارناموں کا مطالعہ نئی نسل میں علم، تخلیق، محنت اور مقصد سے وابستگی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ کے ان واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ قوموں کی حقیقی ترقی تعلیم، تحقیق، فنی مہارت، آزادیٔ فکر، سماجی ذمہ داری اور مسلسل جدوجہد سے وابستہ ہے۔ ماضی کی کامیابیوں سے رہنمائی حاصل کرنا اور ناکامیوں سے عبرت پکڑنا زندہ قوموں کی پہچان ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو تاریخ کے مطالعے کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف ہو، دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھے اور ایک روشن، پُرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔



