جامعتہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد کے زیرِ اہتمام 12اور 13دسمبر کو خواتین کانفرنس

خواتین کی دینی، اخلاقی اور فکری تعمیرِ شخصیت میں جامعتہ المؤمنات مغلپورہ کا نمایاں کردار
دو روزہ 12اور 13دسمبر خواتین کانفرنس کی تیاریاں سرعت کے ساتھ جاری، عیدگاہ میر عالم کا دورہ؛ مختلف علماء و عمائدین کی شرکت
حیدرآباد، 8 نومبر (پریس ریلیز): عورت کسی بھی معاشرے کی محض ایک فرد نہیں بلکہ خاندان کی تشکیل، نسلوں کی تربیت، تہذیب و تمدن کی بقا اور معاشرتی اقدار کے تحفظ کا بنیادی ستون ہے۔ کسی قوم کے علمی، اخلاقی اور تہذیبی مستقبل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی خواتین کی تعلیم و تربیت اور تعمیرِ شخصیت کے لیے کس قدر مؤثر انتظامات کیے ہیں۔ اسلام نے عورت کو جو عزت، عظمت، حقوق اور معاشرتی مقام عطا کیا، وہ انسانی تاریخ کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔ اسی اسلامی تصورِ حیات کو عملی طور پر فروغ دینے اور خواتین کی دینی، اخلاقی، علمی و فکری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں جامعتہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد کی خدمات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔
اسلام سے قبل عورت کی حالت نہایت ناگفتہ بہ تھی۔ بعض معاشروں میں اسے انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا، اس کی رائے اور شخصیت کو اہمیت نہیں دی جاتی اور لڑکی کی پیدائش کو باعثِ عار سمجھا جاتا تھا۔ قرآن حکیم نے اس جاہلانہ ذہنیت کی تصویر کشی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ…
ترجمہ: اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی پیدائش کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غم و غصے سے بھر جاتا ہے۔ اس بری خبر کے باعث لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ آیا اسے ذلت کے ساتھ زندہ رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے۔ خبردار! کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔
(سورۃ النحل: 58-59)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمدِ مبارکہ نے عورت کی اس مظلومانہ حیثیت کو عزت و وقار، تحفظ اور حقوق کی ضمانت میں تبدیل کر دیا۔ آپ ﷺ نے عورت کو ماں کی حیثیت سے عظمت، بیٹی کی صورت میں رحمت، بہن کی شکل میں محبت اور بیوی کی حیثیت سے رفاقت و احترام کا مقام عطا فرمایا۔ اس کے معاشرتی، معاشی، تمدنی اور قانونی حقوق متعین کیے اور اسے علم، تربیت، اخلاق، دعوت، اصلاحِ معاشرہ اور خدمتِ انسانیت کے میدانوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کا حوصلہ دیا۔
اسلام کا تصورِ حقوقِ نسواں نہ افراط کا قائل ہے اور نہ تفریط کا، بلکہ وہ عورت کی فطری خصوصیات، عزت و عصمت، عائلی ذمہ داریوں اور انسانی صلاحیتوں کے درمیان ایک متوازن نظام پیش کرتا ہے۔ اسلام نے عورت کو محض خانہ داری تک محدود نہیں کیا، بلکہ اسے ایک باشعور، تعلیم یافتہ، باکردار اور ذمہ دار شخصیت کی حیثیت سے معاشرے کی تعمیر میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا۔ تاریخِ اسلام میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ، حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت فاطمۃ الزہراء، حضرت سمیہ اور حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہن کی زندگیاں خواتین کے لیے علم و عمل، ایثار و قربانی، استقامت اور دینی حمیت کی روشن مثالیں ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عورت کی حقیقی ترقی کا معیار محض ظاہری آزادی، معاشی خودمختاری یا پیشہ ورانہ کامیابی نہیں، بلکہ اس کی شخصیت میں علم و شعور، اخلاق و کردار، دینی وابستگی، خودداری اور خاندانی و معاشرتی ذمہ داریوں کا حسین امتزاج ہے۔ عصرِ حاضر میں جدید ذرائع ابلاغ، تہذیبی یلغار، فکری انتشار اور اخلاقی انحطاط نے نئی نسل کے سامنے متعدد چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلم خواتین کی دینی شناخت، اسلامی اقدار، حیا و عفت اور خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے منظم تعلیمی و تربیتی جدوجہد وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔
اسی تناظر میں جامعتہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد کی دینی و اصلاحی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ ادارہ خواتین میں دینی شعور بیدار کرنے، اسلامی عقائد و اعمال کی اصلاح، قرآنی تعلیمات سے وابستگی پیدا کرنے اور نئی نسل کی صالح خطوط پر تربیت کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔ اس ادارے نے خواتین کی تعلیم و تربیت کو ایک انفرادی سرگرمی کے بجائے ایک وسیع دینی و معاشرتی تحریک کی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔
دعوت و تبلیغ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری مرد و خواتین دونوں کے لیے ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ۔
ترجمہ: اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔
(سورۃ التوبہ: 71)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلامی معاشرے کی اصلاح اور دینی اقدار کے فروغ میں خواتین کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور دین شناس خاتون نہ صرف اپنے گھر اور خاندان کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ اپنے علم، اخلاق اور کردار کے ذریعے پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کر سکتی ہے۔ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہے؛ اگر اس درس گاہ کو ایمان، علم، اخلاق اور محبتِ رسول ﷺ کے نور سے منور کر دیا جائے تو آنے والی نسلوں کی فکری و عملی بنیادیں مضبوط ہو سکتی ہیں۔
جامعتہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد نے اسی فکر کو اپنا نصب العین بناتے ہوئے خواتین کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے متعدد پروگراموں اور سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے۔ حلقہ جاتِ عرفان القرآن، دروسِ قرآن، محافلِ ذکر و نعت، تربیتی ورکشاپس، الہدایہ کیمپس، سالانہ اعتکاف، میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنسوں اور محرم الحرام کے اجتماعات کے ذریعے خواتین میں قرآن و سنت سے وابستگی، اسلامی عقائد کی پختگی، اعمال کی اصلاح اور سیرتِ طیبہ سے عملی رہنمائی حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کیا جا رہا ہے۔
بحمدہٖ تعالیٰ مولانا مفتی ڈاکٹر محمد مستان علی قادری، بانی و ناظمِ اعلیٰ جامعتہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد کی قیادت و رہنمائی میں یہ ادارہ حیدرآباد کے علاوہ ہندوستان کی تقریباً گیارہ ریاستوں میں اپنے تنظیمی و دعوتی نیٹ ورک کے ذریعے خواتین کی دینی بیداری اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے سرگرم ہے۔ ادارے کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ایسی خواتین تیار کرنا ہے جو اسلامی تعلیمات سے گہری واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر، خاندان اور معاشرے میں علم و اخلاق، تقویٰ و طہارت اور پاکیزہ کردار کی عملی مثال بن سکیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ دخترانِ اسلام اپنی تاریخِ تابناک سے رشتہ مضبوط کریں، سیرتِ حضرت خدیجۃ الکبریٰ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے علمی و عملی رہنمائی حاصل کریں اور حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پاکیزہ سیرت کو اپنی زندگی کا نمونہ بنائیں۔ عشقِ رسول ﷺ، قرآن فہمی، اسلامی تہذیب، حیا و عفت، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کو اپنی شخصیت کا لازمی حصہ بنائیں۔ خواتین کی تعلیم و تربیت دراصل ایک فرد کی اصلاح نہیں بلکہ ایک پورے خاندان اور بالآخر ایک نسل کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔
اسی عظیم دینی، اصلاحی اور تربیتی مقصد کے تحت جامعتہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد کے زیرِ اہتمام 12اور 13دسمبر 2026 کے دوسرے ہفتے میں اتوار کو عیدگاہ میر عالم، نزد زو پارک، تاڑبن، بہادرپورہ، حیدرآباد، تلنگانہ میں دو روزہ خواتین کانفرنس منعقد کرنے کی تیاریاں سرعت کے ساتھ جاری ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد خواتین میں دینی شعور، اسلامی تعلیمات سے وابستگی، اصلاحِ عقائد و اعمال، اخلاقی تربیت اور نئی نسل کے تحفظ و تربیت کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا ہے۔ توقع ہے کہ یہ کانفرنس خواتین کی دینی و فکری رہنمائی اور ادارے کی اصلاحی سرگرمیوں کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
اس سلسلے میں مجلسِ استقبالیہ دو روزہ خواتین کانفرنس کے معتمدِ نشر و اشاعت مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری نے اتوار 8 نومبر کو عیدگاہ میر عالم کا دورہ کرنے کے بعد اظہارِ خیال کیا۔ دورے کی قیادت مولانا مفتی ڈاکٹر محمد مستان علی قادری، بانی و ناظمِ اعلیٰ جامعتہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد نے کی۔ اس موقع پر کانفرنس کے انتظامات، مقام کے مختلف حصوں، شرکاء کی سہولتوں، نظم و ضبط اور دیگر ضروری امور کا جائزہ لیا گیا۔
اس دورے میں مولانا مفتی ڈاکٹر ایس ایم سراج الدین چشتی القادری، جناب راشد عبدالرزاق میمن، مولانا حافظ عبد القیوم، مولانا عبد الرحیم قادری، جناب محمد عبدالغفور پرویز، جناب سعادت علی، مفتی عابد قادری، جناب محمد رحیم اللہ خان نیازی، جناب شہباز، مولوی طاہر اور دیگر علماء و عمائدین موجود تھے۔
اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ خواتین کی دینی و اخلاقی تربیت، اسلامی تشخص کے تحفظ، قرآن و سنت کی تعلیمات کے فروغ اور نئی نسل کی صالح خطوط پر آبیاری کے لیے اجتماعی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ بلاشبہ جامعتہ المؤمنات مغلپورہ حیدرآباد کی یہ جدوجہد اس حقیقت کی ترجمان ہے کہ جب خواتین کو صحیح دینی تعلیم، فکری رہنمائی اور تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح و تعمیر میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔



