جمشیدپور میں پٹرول پمپ پر افسوسناک حادثہ، سی این جی پائپ پھٹنے سے ملازم کی موت
جھارکھنڈ کے جمشیدپور میں ایک پٹرول پمپ پر پیش آئے افسوسناک حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے، جس میں ہائی پریشر سی این جی پائپ اچانک پھٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ حادثہ گاڑی میں سی این جی بھرتے وقت پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ نوزل کا ایک حصہ 25 سالہ ملازم تشار کمار کے سر پر جا لگا۔
یہ حادثہ بھارت پٹرولیم کے پمپ پر پیش آیا، جہاں پائپ پھٹنے سے ایک ٹکڑا تیزی سے تشار کی جانب آیا اور اس کے سر پر شدید چوٹ لگی۔ ساتھی ملازمین نے فوری طور پر اسے قریبی ہاسپٹل منتقل کیا، تاہم علاج کے دوران تشار کمار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اس واقعے سے پمپ کے ملازمین اور مقامی افراد میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
پائپ پھٹنے کے بعد پٹرول پمپ پر افراتفری مچ گئی اور وہاں موجود کئی افراد خوف کے مارے اپنی گاڑیاں چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف بھاگ گئے۔ سی این جی گیس کے اخراج کے باعث صورتحال مزید خطرناک ہوگئی تھی۔ تاہم پٹرول پمپ پر موجود ہنگامی حفاظتی نظام کے ذریعے گیس کے اخراج کو فوری طور پر قابو میں کرلیا گیا، جس سے ایک بڑے حادثے کو ٹالنے میں مدد ملی۔
واقعے کے بعد پٹرول پمپ کو سیل کردیا گیا ہے اور حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ پٹرولیم اینڈ ایکسپلوسوز سیفٹی آرگنائزیشن (PESO) کی ٹیم سی این جی نظام کا معائنہ کرے گی۔ ٹیم پائپوں کی حالت اور پٹرول پمپ پر اختیار کئے گئے حفاظتی انتظامات کا بھی جائزہ لے گی۔
حادثے کے بعد تشار کمار کے افراد اور پٹرول پمپ انتظامیہ کے درمیان معاوضے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق خاندان کو معاوضے کے طور پر 10 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ بھارت پٹرولیم پمپ کی انتظامیہ نے تشار کے تمام بقایاجات ادا کرنے اور GAIL (گیس اتھارٹی آف انڈیا لمیٹڈ) کے ذریعے خاندان کو مزید مالی مدد فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا ہے۔
اس حادثے کے بعد کام کی جگہ پر حفاظتی انتظامات اور کمپریسڈ گیس نظام سے متعلق حفاظتی اصولوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور مستقبل میں اس طرح کے حادثات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔



