جرائم و حادثات

قرض کی رقم کیلئے ہراسانی،حیدرآباد کے پرانے شہر کے نوجوان کی خودکشی

حیدرآباد ۔‌حیدرآباد میں قرض کی رقم کی ادائیگی کے معاملے میں مبینہ ہراسانی سے تنگ آکر ایک شخص نے خودکشی کرلی۔ اس کی نعش جل پلی تالاب سے برآمد ہوئی۔ متوفی کی شناخت مصری گنج کے رہنے والے محمد راشد رضوی کے طور پر ہوئی ہے۔

 

ارکان خاندان کے مطابق راشد نے 31 اگست کو خود ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی جس میں مبینہ طور پر اس نے ذاکر نامی شخص کی جانب سے ہراساں کئے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ راشد نے  ذاکر سے لی گئی رقم واپس کردی تھی تاہم اس کے باوجود ذاکر مبینہ طور پر اس سے مزید 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کررہا تھا۔

 

ویڈیو ریکارڈ کرنے کے کچھ ہی دیر بعد راشد نے پہاڑی شریف پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع جل پلی تالاب میں چھلانگ لگا دی۔ ارکان خاندان کی اطلاع پر پولیس نے این ڈی آر ایف کو طلب کیا اور تلاش کا کام شروع کیا تاہم اندھیرا ہوجانے کے باعث اسی وقت نعش برآمد نہیں ہوسکی۔

 

تقریباً تین دن تک پانی میں رہنے کے بعد نعش برآمد ہوئی۔ ارکان خاندان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ راشد کی موت کو موتھوٹ فائننس سے لئے گئے قرض کی وجہ سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم خاندان کا کہنا ہے کہ راشد کی خود ریکارڈ کردہ ویڈیو میں واضح طور پر ذاکر کا نام لیا گیا اور مبینہ ہراسانی کا ذکر کیا گیا ہے۔

 

پہاڑی شریف پولیس کے مطابق واقعہ 31 اگست کو پیش آیا تھا اور ابتدا میں شاہ علی بنڈہ پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی شکایت درج کی گئی تھی۔ بعد میں جمعرات کو راشد کی نعش جل پلی تالاب سے برآمد ہوئی جو پہاڑی شریف پولیس کی حدود میں واقع ہے۔

 

پولیس نے مشتبہ موت کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد ہی موت کی اصل وجوہات اور الزامات کی حقیقت واضح ہوسکے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button