محبت اور شادی کے نام پر خاتون کو دھوکہ دینے والا پولیس انسپکٹر حیدرآباد میں گرفتار
حیدرآباد: محبت اور شادی کا وعدہ کرکے ایک خاتون کو دھوکہ دینے کے الزام میں خیرت آباد کے ڈیٹیکٹیو انسپکٹر ایم بالاسوامی کو سعیدآباد پولیس نے گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں دے دیا۔
پولیس کی تفصیلات کے مطابق نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ سعیدآباد پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع ایک کالونی میں رہتی تھی۔ سال 2009 میں اسے ریاستی حکومت کے ایک محکمہ میں کنٹراکٹ ملازمت حاصل ہوئی تھی، جبکہ 2014 میں اس کے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ 2015 میں اس کا شوہر گھر کی چھت سے پھسل کر گرگیا، جس کے نتیجے میں اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ بستر تک محدود ہوگیا۔
سال 2016 میں خاتون اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن گئی، جہاں ایم بالاسوامی اس وقت ایڈمنسٹریٹیو سب انسپکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ اسی دوران دونوں کے درمیان فون پر بات چیت شروع ہوگئی اور وہ ذاتی معاملات پر گفتگو کرنے لگے۔
جنوری 2017 میں بالاسوامی نے خاتون سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس سے شادی کرنے کا وعدہ کیا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے خاتون کے شوہر کی طبیعت خراب ہونے اور زیادہ عرصہ زندہ نہ رہنے کی بات کہنے پر وہ اس رشتے کے لئے رضامند ہوگئی اور اس نے اس بارے میں اپنے شوہر کو بھی بتایا۔
بالاسوامی نے خاتون کو یقین دلایا کہ اس کی پہلے ہی شادی ہوچکی ہے اور طلاق کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد وہ اس سے شادی کرلے گا۔ 2021 میں خاتون کے شوہر کی موت کے بعد اس نے دوبارہ شادی کا وعدہ کیا اور کہا کہ اب وہ طلاق یافتہ ہوچکا ہے۔
تاہم، 2024 میں خاتون کو معلوم ہوا کہ بالاسوامی نے نیا مکان تعمیر کیا ہے اور وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اس نے جب اس سے جواب طلب کیا تو بعد میں اس کے رویے سے پریشان ہوکر اس سے دوری اختیار کرلی۔
حال ہی میں بالاسوامی کی جانب سے دوبارہ ہراساں کئے جانے پر خاتون نے جمعہ کی رات پولیس سے شکایت کی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ہفتہ کو بالاسوامی کو گرفتار کرلیا۔



