ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات، سپاری دے کر قتل کرانے کا پردہ فاش – مجاہد عالم خان ملزم ایک اور محبوب عالم خان ملزم نمبر دو سمیت کئی گرفتار

ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات، سپاری دے کر قتل کرانے کا پردہ فاش، کئی ملزمین گرفتار
حیدراباد کے مشہور ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین قتل کیس میں پولیس تحقیقات کے دوران چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مقتول کے قتل کی منصوبہ بندی کئی ماہ قبل کی گئی تھی اور اس کے لیے 15 لاکھ روپے کی سپاری دی گئی تھی۔ اس سلسلے میں متعدد ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے قتل میں استعمال ہونے والی اسکارپیو گاڑی، نقد رقم اور موبائل فون ضبط کرلیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق 23 مئی 2026 کی صبح مقتول کے فرزند ایم ایس فرحان نے نامپلی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔ شکایت میں بتایا گیا کہ خواجہ معزالدین حسب معمول تیراکی کے لیے جانے کی غرض سے مانصاحب ٹینک میں واقع اپنی رہائش گاہ کے باہر کھڑی گاڑی کی طرف جارہے تھے کہ اسی دوران ایک تیز رفتار گاڑی نے جان بوجھ کر انہیں زور دار ٹکر ماری۔ شدید زخمی حالت میں انہیں اودے اومنی ہاسپٹل منتقل کیا گیا، جہاں وہ دوران علاج جانبر نہ ہوسکے۔
ابتدائی طور پر اس واقعے کو حادثہ تصور کیا گیا تھا، تاہم بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی بنیاد پر پولیس نے اسے قتل قرار دیتے ہوئے کیس میں قتل کی دفعات شامل کرلیں۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سبز رنگ کی بغیر نمبر پلیٹ والی مہندرا اسکارپیو مقتول کے گھر کے باہر پہلے سے گھات لگائے کھڑی تھی اور جیسے ہی وہ باہر آئے، گاڑی نے منصوبہ بند انداز میں انہیں ٹکر ماری اور فرار ہوگئی۔
پولیس نے سکندرآباد کے پنچوتی لاج اور نارائن گوڑہ کے محبوب ہوٹل کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمین کی شناخت کی۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مقتول اور ملزم مجاہد عالم خان کے خاندان کے درمیان ملک پیٹ اور لکڑی کا پل کی وقف جائیدادوں کو لے کر کئی برسوں سے تنازعہ چل رہا تھا اور مختلف عدالتوں و وقف ٹریبونل میں مقدمات زیر سماعت تھے۔
پولیس کے مطابق ملزمین کو شبہ تھا کہ خواجہ معزالدین قانونی لڑائی میں ان کے خلاف فیصلے کروارہے ہیں، جس کے باعث انہوں نے قتل کی سازش رچی۔ مرکزی ملزم مجاہد عالم خان اور ان کے والد محبوب عالم خان نے قتل کے لئے 15 لاکھ روپے کی سپاری دی تھی۔ جنوری 2026 سے مقتول کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جارہی تھی اور آخرکار 23 مئی کو منصوبہ بند طریقہ سے قتل انجام دیا گیا۔
تکنیکی شواہد کی بنیاد پر پولیس نے کشور عرف پپو کو پانی پت سے گرفتار کیا، جس کے بعد دیگر ملزمین کو بھی حراست میں لیا گیا۔ گرفتار شدگان میں مجاہد عالم خان، محبوب عالم خان، ابھیجیت عرف نانی، دیگن ونئے، وکرم آدتیہ عرف چنٹو اور منی دیپ عرف پوگو نانی شامل ہیں۔ پولیس نے ملزمین کے قبضہ سے قتل میں استعمال ہونے والی اسکارپیو گاڑی، 10 لاکھ 10 ہزار روپے نقد رقم اور موبائل فون برآمد کئے ہیں۔
حیدرآباد سٹی پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس پیچیدہ کیس کو حل کرنے پر عابدس اے سی پی پی پروین کمار، نامپلی انسپکٹر سی ایچ سائدولو، ایس آئی عادل ریاض خان اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی ہے، جبکہ فرار دیگر ملزمین کی تلاش تاحال جاری ہے۔



