بجاج فینانس کے نام سے دھوکہ۔ تلنگانہ پولیس کے دہلی میں دھاوے 21 خواتین گرفتار، ملزمین میں حیدرآباد کے علاوہ جگتیال اور محبوب نگر کی خواتین شامل

حیدرآباد، 10 اگست:تلنگانہ سائبر سیکیورٹی بیورو نے دہلی میں فرضی کال سینٹرس کے ذریعے چلائے جانے والے ایک منظم سائبر جرائم کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی 21 تلگو بولنے والی خواتین کو گرفتار کرلیا ہے۔
ٹی جی سی ایس بی کے مطابق دہلی میں قائم یہ کال سینٹر نیٹ ورک گزشتہ 18 ماہ سے زائد عرصے سے سرگرم تھا اور تلگو ریاستوں کے لوگوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ اس کارروائی کے دوران حکام نے لیپ ٹاپس، ہارڈ ڈسکس اور دیگر اہم ڈیٹا قبضہ میں لیا ہے جس سے مزید سائبر جرائم کا سراغ ملنے کی امید ہے۔
ایک خصوصی کارروائی کے تحت ٹی جی سی ایس بی کی ٹیموں نے دہلی میں قائم تین سائبر کرائم کال سینٹرس پر بیک وقت چھاپے مارے۔ اس دوران فراڈ میں ملوث 21 تلگو بولنے والی خواتین ٹیلی کالرز اور ایک مرد بینک اکاؤنٹ ہولڈر کو گرفتار کیا گیا۔
ٹی جی سی ایس بی کی ڈائریکٹر شیکھا گوئل نے پیر کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران تین اہم منتظمین کی بھی شناخت ہوئی ہے، جو ان کال سینٹروں کے مالک اور آپریٹر تھے جبکہ تینوں فی الحال فرار ہیں۔
شیکھا گوئل کے مطابق چھاپوں کے دوران معلوم ہوا کہ دہلی کے شیوا مارکیٹ میں تینوں کال سینٹرز الگ الگ ٹیموں کے ذریعے چلائے جارہے تھے۔ ان ٹیموں کی نگرانی منتظمین للت سنگھ، کلدیپ سنگھ اور انیل کر رہے تھے جو اس وقت مفرور ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مفرور ملزمین للت، کلدیپ اور انیل نے 25 سے 40 سال عمر کی تلگو زبان بولنے والی نوجوان خواتین کو ٹیلی کالرز کے طور پر بھرتی کیا تھا۔ تلگو زبان پر ان کی گرفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں تلنگانہ کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
یہ خواتین خود کو بجاج فنانس کی نمائندہ ظاہر کرکے لوگوں کو پرکشش قرض منظور ہونے کی پیشکش کرتی تھیں اور اسی بہانے ان سے رقم وصول کی جاتی تھی۔
کارروائی کے دوران پولیس نے 23 موبائل فون اور دو بینک پاس بکس بھی ضبط کیے۔ ابتدائی تحقیقات میں تلنگانہ بھر میں درج 22 سائبر کرائم کیسز سے اس نیٹ ورک کے روابط سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
تینوں منتظمین نے دہلی میں مقیم تلگو بولنے والی خواتین کو ٹیلی کالرز کے طور پر بھرتی کرکے ایک منظم سائبر فراڈ نیٹ ورک قائم کیا تھا۔بھرتی کی گئی کئی خواتین کا تعلق جگتیال ضلع کے کورٹلہ حیدرآباد کے سعیدآباد اور بورابنڈہ، اور محبوب نگر ضلع سے بتایا گیا ہے۔
ملزمین نوجوان خواتین کی عمر اور تلگو زبان میں روانی کو استعمال کرتے ہوئے تلنگانہ بھر میں لوگوں سے رابطہ کرتے تھے۔ خواتین خود کو بجاج فنانس کی نمائندہ ظاہر کرتیں اور متاثرین کو آسان اور پرکشش قرض منظور کرانے کا لالچ دیتیں۔
فراڈ کرنے والے ایک مخصوص اسکرپٹ کے تحت متاثرین کو مختلف بہانوں سے رقم ادا کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ ان میں قرض کی پروسیسنگ فیس، تصدیقی فیس، دستاویزات کے اخراجات، انشورنس پریمیم اور دیگر فرضی چارجز شامل تھے۔
رقم وصول کرنے کے بعد ملزمان یا تو متاثرین سے رابطہ منقطع کرلیتے تھے یا قرض منظور ہونے کا جھوٹا وعدہ کرکے مزید رقم کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔جب متاثرین لین دین پر سوال اٹھاتے یا رقم واپس مانگتے تو ملزمین دھمکی اور بلیک میلنگ کا سہارا لیتے تھے۔
وہ متاثرین کو قانونی کارروائی، بدنامی اور ان کی ذاتی معلومات و شناختی دستاویزات کے غلط استعمال کی دھمکیاں دیتے تھے تاکہ انہیں پولیس سے رجوع کرنے یا فراڈ کی شکایت درج کرانے سے روکا جاسکے۔



