غلام احمد کالج آف ایجوکیشن میں دو روزہ عالمی تعلیمی کانفرنس، جدید نصاب پر زور

*تعلیم میں جدت اور ابھرتے رجحانات: تعلیمی نظام کی نئی تشکیل پر بین الاقوامی کانفرنس*
غلام احمد کالج آف ایجوکیشن میں دو روزہ عالمی تعلیمی کانفرنس، جدید نصاب پر زور
حیدرآباد(پریس نوٹ) غلام احمد کالج آف ایجوکیشن، بنجارہ ہلز کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان”تعلیم میں جدت اور ابھرتے رجحانات: تعلیمی نظام کی نئی تشکیل کا سفر“کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں ہندوستان اور بیرونِ ممالک سے ماہرینِ تعلیم، اساتذہ، محققین اور اسکالرس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ انگلینڈ، عمان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، آسٹریلیا، امریکہ، سویڈن، کینیڈا، جرمنی اور نائیجیریا سمیت مختلف ممالک سے نمائندگان نے شرکت کی جبکہ ملک کی متعدد ریاستوں سے بھی تحقیقی مقالے موصول ہوئے۔ پروگرام کا آغاز عادل محی الدین کی قرأتِ کلامِ پاک سے ہوا۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسیں علمی تبادلہ، عالمی اشتراک اور مستقبل کی تعلیمی سمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ڈائرکٹر کالج پروفیسر ویبھا آستھانہ نے خیرمقدمی خطاب میں بتایا کہ کانفرنس کے لیے 133 ابسٹرکٹس موصول ہوئے، جو عالمی سطح پر تعلیمی ماہرین کی دلچسپی کا مظہر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ کانفرنس تعلیمی میدان میں نئے امکانات اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔کانفرنس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر حورین وصیفہ صدیقی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر کیم آر میک کونکی (ماحولیاتی سائنسداں، تھائی لینڈ) نے ماحولیاتی تحفظ، پلاسٹک آلودگی اور اس کے مضر اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔مہمانِ اعزازی پروفیسر بی راجا شیکھر (وائس چانسلر، یوگی ویمانا یونیورسٹی) نے جدید تعلیمی وسائل، نصاب کی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے کردار پر زور دیا۔
اس موقع پر کانفرنس کے سوانیئر کا رسم اجرا عمل میں آیا جبکہ ڈاکٹر این سروجہ نے شکریہ ادا کیا۔کلیدی خطاب پروفیسر ٹی مرونالینی (سابق ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، عثمانیہ یونیورسٹی) نے دیا، جس میں انہوں نے طلبہ کی ذہنی و تخلیقی نشوونما پر موبائل اور ڈیجیٹل انحصار کے منفی اثرات پر روشنی ڈالی۔ پہلے دن آرٹیفشل انٹلی جنس، ایموشنل لرننگ، ایجوکیشن لیڈرشپ جیسے موضوعات پر متعدد ٹیکنیکل سیشنز منعقد ہوئے۔ان سیشنز کی صدارت ڈاکٹر رتناسروپا، ڈاکٹر خیرالنساء فریشتہ، ڈاکٹر سریش انوگنتی، ڈاکٹر لکشمی راوت، ڈاکٹر سیدہ رخسانہ خالد اور دیگر ماہرین نے کی
جبکہ مختلف سیشنز کے رپورٹیئرز میں ڈاکٹر حورین وصیفہ صدیقی، ڈاکٹر ایم راجو، ڈاکٹر سندھو بھاوانی، سنا فاطمہ، لبنیٰ علی خان،ڈاکٹررفیعہ سلطانہ، توقیر فاطمہ اور ڈاکٹرنجمہ سلطانہ شامل رہیں۔آن لائن سیشنز میں ڈاکٹر عشرت مرزانہ، ڈاکٹر سیام دیپتی، ڈاکٹر محمد اسرار احمد،نور الہدیٰ،نذیر الدین احمد اور دیگر نے شرکت کی۔کانفرنس کے دوسرے دن مختلف پلینری سیشنز اور پینل مباحث کا انعقاد کیا گیا۔دوسرے دن کے سیشن کا آغاز محمدشبیرعلی کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ سکریٹری سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی ظفر جاویدنے طلبہ کومحنت سے تعلیم حاصل کرنے پرزور دیا۔
عامرجاوید جوائنٹ سکریٹری نے اس موقع پر بہترین مقالہ پیش کرنے والے طلبہ میں مومنٹوز تقسیم کئے۔ پروفیسر کے رانی راجیتا مادھوری نے اعلیٰ تعلیم میں قیادت کے نئے رجحانات پر خطاب کیا۔پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر محمد محمود صدیقی (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی) کی نظامت میں پروفیسر آر وی انورادھا، ڈاکٹر ڈی سنیتا، ڈاکٹر ٹی سومالینی اور ڈاکٹر یرامادھا جیوتی باسو نے شرکت کی اور بین الشعبہ جاتی تحقیق کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔اس موقع پرمنعقدہ سیشن میں بین الاقوامی مقررین نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر جی میری (امریکہ)، محمد مشہود علی (سویڈن)، حبیب قادری (شکاگو، امریکہ)، تمارا پیننگٹن (آسٹریلیا)، انیسا لیس (کینیڈا)، سیموئل اوخوئیدو (نائیجیریا)، فاطمہ محمد حسن (سعودی عرب) اور سید امام الدین احمد (جرمنی) شامل تھے،
جنہوں نے تعلیم میں AI، قیادت، اور عالمی تعلیمی چیلنجز پر اظہارِ خیال کیا۔اختتامی اجلاس میں مہمان خصوصی پیٹر کویٹوک (صدر شعبہ ہیومانیٹیز،آغاخان اکیڈیمی) نے خطاب کیا۔ سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کے چیئرمین محمد ولی اللہ اور غلام احمد کالج آف ایجوکیشن کے گورننگ کونسل کے چیئرمین ایس اے وہاب اس موقع پر موجودتھے۔ پروفیسر انورادھا جونلاگڈا (وائس چانسلر، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی) نے صدارتی خطاب پیش کیا۔ کانفرنس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سندھو بھاوانی نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔



