"تم پاگل ہو، میں نہ ہوتا تو اب تک جیل میں ہوتے” — ٹرمپ فون پر نیتن یاہو پر برس پڑے

حیدراباد – 2جون ( اردو لیکس ڈیسک) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو کے درمیان حالیہ ٹیلی فون گفتگو کے دوران سخت جملوں کا تبادلہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر نیتن یاہو سے ناراضی کا اظہار کیا اور انہیں سخت الفاظ میں تنبیہ کی۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی تھی۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا کہ اگر لبنان پر حملے جاری رہے تو وہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ تل ابیب کے اقدامات ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے سخت لہجے میں کہا، ’’تم پاگل ہو، اگر میں نہ ہوتا تو تم اب تک جیل میں ہوتے۔ میں ہی تمہیں بچا رہا ہوں۔ اس وقت سب تم سے نفرت کرتے ہیں اور تمہارے اقدامات کی وجہ سے اسرائیل کے بارے میں بھی لوگوں کی رائے خراب ہو رہی ہے۔‘‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو سے یہ بھی پوچھا کہ ’’آخر تم کیا کر رہے ہو؟‘‘ اور ان کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے۔ بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لئے اسرائیلی کارروائیوں میں متعدد لبنانی شہریوں کی ہلاکت پر بھی ٹرمپ نے تشویش ظاہر کی۔
تاہم بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ان کی بات چیت مثبت رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج بیروت کی جانب پیش قدمی نہیں کریں گی اور اس سلسلے میں حزب اللہ قیادت سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ اسرائیل بھی جوابی کارروائی سے گریز کرے گا۔
دوسری جانب نیتن یاہو کا مؤقف اس سے مختلف نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیلی شہروں اور شہریوں پر حملے جاری رہے تو حزب اللہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنا یہ مؤقف ٹرمپ کو بھی واضح طور پر بتا دیا ہے۔




