تلنگانہ

شدید دھوپ کے باعث چیف منسٹر ریونت ریڈی نے یوم تاسیس تلنگانہ تقریب کی تقریر مختصر کردی

حیدراباد : تلنگانہ کی یومِ تاسیس کے موقع پر سکندرآباد کے پریڈ گراؤنڈس میں منعقدہ سرکاری تقریب کے دوران چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اپنی تقریر درمیان میں ہی مختصر کر دی۔ اطلاعات کے مطابق ان کی تقریر کے مزید پانچ صفحات باقی تھے، تاہم شدید دھوپ اور گرمی کے پیشِ نظر انہوں نے خطاب روک دیا۔

 

ریونت ریڈی نے کہا کہ موسم کی شدت اور شرکاء کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اپنی تقریر یہیں ختم کر رہے ہیں۔ ان کے اس فیصلے پر تقریب میں موجود افراد نے خیرمقدم کیا۔

 

قبل ازیں اپنے خطاب میں  چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا  کہ ان کی حکومت فلاح و بہبود اور ترقی کو یکساں اہمیت دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کا معاشرہ راج شاہی اور بالادستی کو برداشت نہیں کرتا اور موجودہ حکومت عوامی امنگوں کو پورا کرنے والی عوامی حکومت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ’’تلنگانہ وژن-2047‘‘ کے نشانہ کے حصول کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

 

ریاستی یومِ تاسیس کے موقع پر پریڈ گراؤنڈس میں قومی پرچم لہرانے اور پولیس کی سلامی لینے کے بعد خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کسانوں کو صنعت کاروں کے طور پر تیار کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

 

ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست میں 2.36 کروڑ ٹن فصلوں کی پیداوار حاصل ہونا باعثِ فخر ہے۔ کسانوں پر قرض کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے 2 لاکھ روپے تک کے زرعی قرضے معاف کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک فلاحی اسکیموں کے لیے 1.56 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے جا چکے ہیں۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت تمام مشکلات کے باوجود کسانوں سے آخری دانے تک فصل خریدنے کے عزم پر قائم ہے۔ اب تک فصلوں کی خریداری پر 82 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ 10 ہزار ٹن بھیگا ہوا دھان بھی خریدا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں جوار اور مکئی کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button