انٹر نیشنل

ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد امریکی ایوانِ نمائندگان میں منظور – اپنی پارٹی کے ارکان نے بھی مخالفت کی ؛ ٹرمپ کو بڑا جھٹکا

حیدراباد – 4جون ( اردو لیکس ڈیسک) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اس وقت بڑا سیاسی جھٹکا لگا جب ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں محدود کرنے سے متعلق قرارداد کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے منظوری دے دی۔ قرارداد کے حق میں 215 جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ ڈالے گئے۔ ارکانِ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ غیر ضروری اور بھاری مالی بوجھ والے جنگی اقدامات کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

 

یہ قرارداد ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے سینئر رکن اور نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رکن گریگوری میکس نے پیش کی۔ ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی رائے شماری کے دوران چار ریپبلکن ارکان نے بھی ٹرمپ کی فوجی پالیسیوں کے خلاف ووٹ دیا، جس پر سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔

 

قرارداد کے مطابق جب تک کانگریس باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی کارروائی کی منظوری نہ دے، امریکی افواج ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتیں۔ ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ’’وار پاورز ریزولوشن‘‘ کی منظوری کو وائٹ ہاؤس کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

 

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قرارداد سے ایران کے ساتھ گزشتہ تین ماہ سے جاری کشیدگی فوری طور پر ختم نہیں ہوگی۔ معمولی اکثریت سے منظور ہونے والی اس قرارداد سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی ایران پالیسی اور فوجی اقدامات کے خلاف نمایاں مخالفت موجود ہے۔

 

اب یہ قرارداد سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔ اگر وہاں بھی اسے منظوری مل جاتی ہے تو اسے صدر ٹرمپ کے پاس بھیجا جائے گا، جہاں وہ اسے ویٹو کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

 

دوسری جانب حالیہ جنگ بندی کو بحال کرنے کے لئے اسرائیل اور لبنان نے بھی اتفاق کر لیا ہے۔ امریکی ثالثی میں ہونے والے چوتھے دور کے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ معاہدے کے تحت تنازعات کے مستقل حل کے لئے مزید براہِ راست مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

 

معاہدے میں ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ سے مکمل جنگ بندی پر عمل کرنے اور جنوبی لیتانی سیکٹر سے اپنی فورسز واپس بلانے کی شرط بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button