انٹر نیشنل

اب مکمل جنگ۔ امریکہ کے ساتھ جھڑپوں پر ایرانی صدر کا بیان

نئی دہلی : امریکہ اور ایران کے درمیان باہمی حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹوں کے باعث مغربی ایشیا کی صورتحال پہلے ہی سنگین ہو چکی ہے۔

 

اسی دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مکمل جنگ کی حالت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران بھر میں اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے

 

اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان حالات کو قبول کرتے ہوئے ملک کا ساتھ دیں۔آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے مال بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد شروع ہونے والے امریکی حملے گزشتہ دس دنوں سے جاری ہیں۔

 

امریکہ ایرانی ڈرونز، میزائلوں کے ذخائر، ساحلی نگرانی کے نظام اور بحریہ کی صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی صدر کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔

 

دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے باعث خلیجی ممالک میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

 

ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت میں واقع عریفجان فوجی اڈے پر داغے گئے میزائلوں سے امریکی راکٹ سسٹم کو تباہ کر دیا ہے۔ ایران کے مطابق یہ اس کے فوجی نظام پر کیے گئے حملوں کا جوابی اقدام تھا

 

تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو راستے میں ہی ناکام بنا دیا گیا۔پینٹاگون نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں

 

جن میں سے 96 فیصد صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔ادھر برطانیہ کی بحری سلامتی سے متعلق ایک تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب

 

ایک تیل بردار ٹینکر پر حملہ ہوا تنظیم کے مطابق جہاز کا تمام عملہ بحفاظت جہاز سے نکلنے میں کامیاب رہا۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button