نیشنل

’ووٹ چوری‘ کے الزامات پر 42 سابق ججوں کا جواب، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی تائید میں لکھا کھلا خط

نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر  گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے درمیان 42 سابق ججوں نے چیف الیکشن کمشنر کی حمایت میں کھلا خط جاری کیا ہے۔ سابق ججوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن اور دیگر آئینی اداروں کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

 

واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ نے دہلی میں احتجاج کیا تھا۔ کانگریس کے سرکردہ قائدین راہول گاندھی، پرینکا گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن قائدین نے بھی احتجاج میں حصہ لیا تھا۔

 

سابق ججوں نے اپنے خط میں اپوزیشن کے ’ووٹ چوری‘ کے الزامات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بغیر ٹھوس ثبوت کے الیکشن کمیشن جیسے آئینی اداروں پر ’چوری‘ اور ’سمجھوتہ کرنے‘ جیسے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کے پاس ان الزامات کے مناسب ثبوت موجود ہیں تو انہیں متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے۔

 

خط میں سابق ججوں نے کہا کہ اس طرح کے الزامات نہ صرف عدالتی نظام بلکہ قانونی اور آئینی اداروں پر بھی حملے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے آئینی اداروں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس مرتبہ الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ایسے حالات میں وہ خاموش نہیں رہ سکتے، اسی لئے انہیں کھلا خط جاری کرنا پڑا۔

 

سابق ججوں نے کہا کہ ملک کے اعلیٰ ترین آئینی اداروں پر اس طرح کے حملوں پر انہیں شدید تشویش ہے۔ انہوں نے مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل کی بھی تائید کرتے ہوئے اسے قانون کے تحت قائم کیا گیا طریقہ کار قرار دیا۔

 

خط میں کہا گیا کہ ’ووٹ چوری‘ کے الزامات پریس کانفرنسوں میں تو لگائے جارہے ہیں، لیکن انہیں عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کیا جارہا۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں سپریم کورٹ کے سابق ججوں اور مختلف ہائی کورٹس کے سابق چیف جسٹسز سمیت کئی سابق جج شامل ہیں۔ ان میں سابق جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس پنکج متل بھی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button