اسپشل اسٹوری

قیامت خیز گرمی کی آہٹ – ’سوپر ایل نینو‘ سے دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھنے کا خطرہ، زمین کے تپنے سے 5 لاکھ اضافی اموات کا خدشہ

نئی دہلی: دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہر مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے اور ایل نینو کے حالات مزید مضبوط ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے اور زمین تیزی سے گرم ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس سلسلے میں موسمیاتی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1950 کے بعد موجودہ دور میں غیر معمولی طور پر بلند درجہ حرارت ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

 

اقوام متحدہ کے ماتحت عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث پہلے ہی متاثر ہونے والے عالمی موسمیاتی نظام پر اب ایل نینو کے اثرات بھی نمایاں ہوں گے۔ بحرالکاہل سے بڑے پیمانے پر گرمی خارج ہونے کے باعث دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کے غیر معمولی حالات پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

 

موسمیاتی ماہر ریان ماؤ نے عالمی موسمیاتی نقشہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تقریباً پوری دنیا سرخ نظر آرہی ہے، جو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایل نینو اپنی انتہائی شدت کی جانب بڑھ رہا ہے اور امریکہ کے علاوہ تقریباً تمام خطوں میں زمین کے مزید گرم ہونے کے آثار ہیں۔ انہوں نے عالمی موسمیاتی تنظیم کی اس رپورٹ سے بھی اتفاق کیا کہ ایل نینو کے اثرات فروری 2027 تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

 

ایک اور موسمیاتی ماہر جیک ہاؤز فادر نے کہا کہ ایل نینو کے اثرات کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں 3.4 ڈگری سیلسیس تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ ماہر موسمیات لیون سائمن نے بھی خبردار کیا کہ دنیا انتہائی شدید، یعنی ’سپر ڈوپر ایل نینو‘ کے مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

 

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق سمندر کی سطح کے اوسط درجہ حرارت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ اکتوبر سے دسمبر کے دوران وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کے علاقوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت 3.7 ڈگری سیلسیس تک بڑھنے کا امکان ہے۔

 

دریں اثنا، شکاگو یونیورسٹی کے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ رواں سال سپر ایل نینو کے حالات کے باعث جون 2026 سے فروری 2027 کے درمیان دنیا بھر میں تقریباً 5 لاکھ اضافی اموات ریکارڈ ہوسکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button