نیشنل

مسلم پرسنل لا بھی چائلڈ میرج قانون سے بالاتر نہیں : الہ آباد ہائی کورٹ

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ میں کہا ہے کہ مسلم پرسنل لا سمیت کوئی بھی ذاتی قانون بچوں کی شادی پر پابندی کے قانون اور پوکسو ایکٹ پر فوقیت حاصل نہیں کر سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ بلوغت کی عمر میں نکاح کی اجازت دینے والا شرعی قانون ان قوانین سے متصادم ہے۔

 

جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اچل سچ دیو پر مشتمل بنچ نے یہ ریمارکس اترپردیش کے بلندشہر میں 16 سالہ مسلم لڑکی کی شادی رکوانے کے دوران پولیس اور چائلڈ لائن ٹیم کو مبینہ طور پر روکنے والے 19 افراد کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کرتے ہوئے دیے۔

 

عدالت نے کہا کہ ملک کے ہر شہری کے لیے، خواہ اس کا مذہب کوئی بھی ہو، شادی کی قانونی عمر وہی ہوگی جو بچوں کی شادی پر پابندی کے قانون (PCMA) میں مقرر کی گئی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کی اجازت دینا پوکسو ایکٹ کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ شادی کے بعد جنسی تعلقات کا امکان فطری طور پر موجود ہوتا ہے۔

 

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کیرالہ ہائی کورٹ کے 2024 کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی شادی تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے قانوناً ممنوع ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگرچہ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں بھی بحث ہو چکی ہے، تاہم اب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

 

یہ مقدمہ 15 فروری 2026 کو بلندشہر کے کاکور تھانے میں درج ایف آئی آر سے متعلق تھا، جس میں الزام تھا کہ پولیس اور چائلڈ لائن حکام نابالغ لڑکی کی شادی رکوانے پہنچے تو ملزمین نے انہیں دھمکایا، سرکاری فرائض میں رکاوٹ ڈالی اور لڑکی کو چائلڈ لائن اہلکار کی تحویل سے زبردستی لے گئے۔

 

ملزمین نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مسلم پرسنل لا کے مطابق بلوغت، جو عموماً 15 سال سمجھی جاتی ہے، کے بعد لڑکی نکاح کر سکتی ہے، اس لیے پی سی ایم اے ان پر لاگو نہیں ہوتا۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی سی ایم اے اور پوکسو ایکٹ عوامی مفاد، صحت اور قومی پالیسی پر مبنی قوانین ہیں اور ان سے کسی کو استثنا حاصل نہیں ہے۔

 

عدالت نے مزید کہا کہ پولیس اور چائلڈ لائن ٹیم نے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری ادا کی اور ایف آئی آر میں درج الزامات ابتدائی طور پر قابلِ تفتیش ہیں، اس لیے اس مرحلے پر ایف آئی آر کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button