نیشنل

اسلام قبول کرنے والا آیوش ملک نے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرلیا

لکھنو:  اترپردیش کے ضلع شاملی کے رہنے والا آیوش ملک، جس کے اسلام قبول کرنے کا معاملہ ریاست کے انسدادِ تبدیلیٔ مذہب قانون کے تحت زیرِ تفتیش تھا، نے اب دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرلیا ہے۔ گھر والوں کے مطابق آیوش نے اپنے والدین کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے اپنی مرضی سے "سناتن دھرم” میں واپسی کا فیصلہ کیا۔

 

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں آیوش ہندو مذہبی رسومات ادا کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے   ویڈیو میں اس  نے کہا، "میں نے اسلام قبول کیا تھا، لیکن اپنے خاندان اور والدین کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اپنی خوشی سے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرلیا ہے۔ اب میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔”

 

آیوش کے والد دیوراج ملک نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے نے باقاعدہ طور پر دوبارہ سناتن دھرم اختیار کرلیا ہے۔ انہوں نے پہلے الزام لگایا تھا کہ چاندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی نے منصوبہ بند سازش کے تحت آیوش کا ذہنی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اسے اسلام قبول کروایا اور اس کا نام محمد علی رکھا تاکہ کروڑوں روپے مالیت کی خاندانی جائیداد پر قبضہ کیا جا سکے۔

 

واضح رہے کہ دیوراج ملک کی شکایت پر اترپردیش پولیس نے چند ہفتے قبل چندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی کو اترپردیش انسدادِ غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

 

ایف آئی آر کے مطابق، بی فارما گریجویٹ آیوش ملک کی ملاقات 2018 میں ٹانگ کے علاج کے دوران فزیوتھراپسٹ چاندنی قریشی سے ہوئی تھی۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے اور الزام ہے کہ 2023 میں آیوش کو دہلی لے جا کر اسلام قبول کروایا گیا، جہاں اس کا نام محمد علی رکھا گیا۔ شکایت میں نکاح کا بھی دعویٰ کیا گیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران نکاح کا کوئی سرکاری سرٹیفکیٹ برآمد نہیں ہوا۔

 

پولیس کے مطابق آیوش نے اسلامی طرزِ زندگی بھی اختیار کرلی تھی، جن میں داڑھی رکھنا، پانچ وقت کی نماز ادا کرنا اور لباس میں تبدیلی شامل تھی۔ پولیس اس پورے معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button