نیشنل

10 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم آن لائن ٹرانسفر کرنے میں لگ سکتا ہے ایک گھنٹہ۔آر بی آئی کی نئی تجویز

10 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم آن لائن ٹرانسفر کرنے میں لگ سکتا ہے ایک گھنٹہ۔آر بی آئی کی نئی تجویز

 

نئی دہلی: بڑھتی ڈیجیٹل ادائیگی کے اس دور میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) آن لائن فراڈ کو روکنے کے لیے بڑا قدم اٹھانے والا ہے۔ آربی آئی نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر کوئی صارف 10 ہزار روپئے سے زیادہ کی آن لائن رقم منتقل کرتا ہے تو اس ادائیگی کے مکمل ہونے میں ایک گھنٹہ (کولنگ آف پیریڈ) لگ سکتا ہے۔

 

ملک کی بینکنگ انڈسٹری نے اس حفاظتی قدم کی حمایت کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی عام لوگوں کی سہولت اور تکنیکی مشکلات کے بارے میں خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ بینکوں کا ماننا ہے کہ اس قاعدے سے فراڈ پر لگام لگے گی لیکن عام لوگوں کو روزمرہ کے لین دین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

آر بی آئی نے اپریل میں جاری ایک مباحثے میں مشورہ دیا تھا کہ جب بھی کوئی انفرادی صارف، پروپرائٹر یا پارٹنرشپ فرم 10 ہزار سے زیادہ کی ڈیجیٹل ادائیگی شروع کرتے ہیں تو اس لین دین کو پورا ہونے سے پہلے ایک گھنٹے کا وقفہ دیا جائے۔ یہ تاخیر صرف پیسے بھیجنے والے کی سطح پر ہوگی۔

 

اس اصول کا بنیادی مقصد ایسے معاملات کو روکنا ہے جہاں جعلساز لوگوں کو ڈرا کر یا بہلا پُھسلا کر فوری رقم ٹرانسفر کروا لیتے ہیں، جسے تکنیکی زبان میں ’آتھرائزڈ پُش پیمنٹ‘ (اے پی پی) فراڈ کہا جاتا ہے۔بینکوں کا کہنا ہے کہ اس ایک گھنٹے کی تاخیرسے صارفین کو یہ سوچنے اور سنبھلنے کا موقع ملے گا کہ وہ صحیح جگہ پیسہ بھیج رہے ہیں یا نہیں۔

 

حالانکہ بینکنگ ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسے ہر طرح کے لین دین پر آنکھ بند کر کے نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف 10 ہزار سے زیادہ کا ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کرتا ہے تو اس کے لیے ایک ’ٹرسٹیڈ پرسن‘ (قابل اعتماد شخص) کی منظوری ضروری کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

 

اس قاعدے کے تحت بزرگوں کے ذریعہ پہلے سے مقرر کئے گئے کسی قابل اعتماد شخص کو ادائیگی پوری کرنے سے پہلے اپنی اضافی منظوری دینی ہوگی۔ اگر اس قابل اعتماد شخص کو تبدیل کیا جاتا ہے تو کسی بھی ممکنہ دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے 24 گھنٹے کا لازمی ’کولنگ آف پیریڈ‘ نافذ ہوگا۔بینکوں نے اس حفاظتی تجویز کی تعریف کی ہے لیکن عملی طور پر اسے نافذ کرنے میں بڑے چیلنجوں کا اندازہ ہے۔

 

بینکوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی معمر شخص اسپتال یا ڈائگنوسٹک سینٹر میں ایمرجنسی ادائیگی کر رہا ہے اور اس کا نامزد شخص (بیٹا یا بیٹی) اس وقت کسی وجہ سے دستیاب نہیں ہے، تو حقیقی اور ضروری ادائیگی میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے جو کسی کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔اس نئے حفاظتی طریقہ کار کو نافذ کرنے کے لیے بینکوں کو اپنے موجودہ ڈیجیٹل پیمنٹ انفراسٹرکچر میں اہم تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔

 

بینکوں کو نئے لین دین کی نئی قطاریں (لائن) بنانی ہوں گی کولنگ آف ونڈو کے دوران لین دین کینسل کرنے کی سہولت فراہم کرنی ہوگی اور سیٹلمنٹ کے پورے عمل کو از سرنو کوڈ کرنا ہوگا۔ بینکنگ حکام کے مطابق ان نظاموں کو نافذ کرنے میں کافی لاگت آئے گی۔یہ تشویش اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب یو پی آئی پر زیرو مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کی وجہ سے مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

بینکوں کو تاجروں سے یو پی آئی لین دین کے لیے کوئی فیس لینے کی اجازت نہیں ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگی ایکو سسٹم کو برقرار رکھنے اور اس کی توسیع کے لیے تقریباً 10 ہزار کروڑ روپئے کی بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے جس کا بڑا حصہ فی الحال بینکوں اور پیمنٹ خدمات فراہم کرنے والوں کو خود برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ہندوستان کا ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم اپنی رفتار اور پیمانے کے لحاظ سے دنیا میں سب سے منفرد ہے۔

 

آر بی آئی نے برطانیہ، سنگاپور، سویڈن، امریکہ اور آئرلینڈ جیسے ممالک کے عالمی تجربات کی بنیاد پر یہ تجویز تیار کی ہے لیکن ہندوستانی بینکوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ضوابط کو حتمی شکل دی جانی چاہیے۔ فی الحال آر بی آئی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے رائے طلب کی ہے

 

اور بینکوں کو امید ہے کہ حتمی رہنمایانہ خطوط صارفین کی سہولت کے ساتھ ڈیجیٹل سیکورٹی میں

متعلقہ خبریں

Back to top button