انٹر نیشنل

زمین غیر معمولی گرم دور میں داخل ہوسکتی ہے ، دنیا بھر میں موسمی نظام کے متاثر ہونے کا خدشہ ۔سائنس دانوں نے خبردار کردیا

نئی دہلی: ٹراپیکل پیسیفک سمندر میں بننے والے ’ایل نینو‘ کے اثرات انسانی تاریخ میں انتہائی شدید ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ رواں سال نومبر سے دسمبر کے دوران اپنی عروج کی سطح پر پہنچ سکتا ہے اور دنیا بھر کے درجۂ حرارت کو غیر معمولی اور ریکارڈ سطح تک لے جا سکتا ہے۔

 

سائنس دانوں کے مطابق خطِ استوا کے قریب بحرالکاہل کی سطحِ سمندر کا درجۂ حرارت پہلے ہی ’سپر ایل نینو‘ کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ تاہم ماہرین کے لیے اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں سمندر کی گہرائی میں ذخیرہ شدہ بڑی مقدار میں حرارت سطح پر آنے کا امکان ہے۔

 

موجودہ اندازوں کے مطابق بحرالکاہل کی گہرائی میں موجود حرارت 1982-83، 1997-98 اور 2015-16 میں آنے والے شدید ایل نینو کے مقابلے میں بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ معروف ماحولیاتی تجزیہ کار کولن میکارتھی نے قومی میڈیا کو بتایا کہ سمندر کے گرم ہونے کی رفتار متوقع شدت اور سمندر میں ذخیرہ شدہ حرارت کی مقدار سمیت کئی پہلوؤں سے اس بار پرانے ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان ہے۔

 

وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں غیر معمولی درجۂ حرارت بڑھنے سے دنیا بھر کے موسمی نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کو تشویش ہے کہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر بارش، خشک سالی، طوفانوں اور شدید گرمی کی لہروں کے معمول میں تبدیلی آسکتی ہے۔

 

اندازہ ہے کہ رواں سال کی دوسری ششماہی میں ایل نینو مزید طاقتور ہوگا اور نومبر سے دسمبر تک اپنی شدت کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ماضی میں ریکارڈ کیے گئے شدید ترین ایل نینو کے ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی اگر اس طاقتور ایل نینو کے ساتھ مل جاتی ہے تو 2027 کے آغاز تک زمین کا اوسط درجۂ حرارت صنعتی انقلاب سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 2 ڈگری سیلسیس زیادہ ہوسکتا ہے۔

 

اگر ایسا ہوا تو محققین کے مطابق زمین ایسے غیر معمولی گرم دور میں داخل ہوسکتی ہے جس کی مثال گزشتہ لاکھوں سالوں میں نہیں ملتی۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں شدید موسمی آفات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

 

بعض علاقوں میں شدید خشک سالی کہیں غیر معمولی بارشیں اور مانسون کے نظام میں تبدیلی جبکہ بعض دیگر علاقوں میں سمندر کی سطح بلند ہونے اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

 

مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند ماہ زمین کے موسمیاتی نظام کے لیے انتہائی سخت آزمائش کا دور ثابت ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button