نیشنل

نابالغ سے شادی پر مسلم پرسنل لا کا تحفظ نہیں، جنسی زیادتی پر پوکسو کے تحت کارروائی ہوگی: دہلی ہائی کورٹ

نئی دہلی، 26 ستمبر (اردو لیکس ڈیسک) دہلی ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے تحت کم عمر لڑکی سے شادی کو پوکسو قانون کے تحت کارروائی سے تحفظ حاصل نہیں ہوسکتا۔ عدالت نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی کرکے اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے والے شخص کے خلاف POCSO ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کے تحت کارروائی سے مسلم پرسنل لا رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

 

جسٹس سنجیو نرولا کی سربراہی میں دہلی ہائی کورٹ کی بنچ نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران یہ اہم ریمارکس دیئے۔ ملزم نے اپنے خلاف BNS کی دفعہ 64(1)، دفعہ 6 اور POCSO ایکٹ کے تحت درج مقدمہ ختم کرنے کے لیے کوَش پٹیشن دائر کی تھی۔ عدالت نے پٹیشن مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی ذاتی یا مذہبی قانون کی بنیاد پر POCSO کے تحت درج مقدمہ ختم نہیں کیا جاسکتا۔

 

عدالت نے کہا کہ اگر مسلم پرسنل لا کسی مخصوص صورت میں 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کی اجازت دیتا بھی ہو، تب بھی ایسی شادی کو اس حد تک قانونی تحفظ نہیں دیا جاسکتا کہ شوہر کو نابالغ بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر POCSO قانون سے استثنیٰ مل جائے۔

 

یہ معاملہ 28 سالہ شخص اور 16 سال 3 ماہ کی لڑکی کی شادی سے متعلق تھا۔ دونوں ساتھ رہ رہے تھے اور کچھ عرصے بعد لڑکی حاملہ ہوگئی۔ حمل کی جانچ کے لیے سرکاری اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے ضابطے کے مطابق پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے لڑکی کے شوہر کے خلاف POCSO سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔

 

ملزم نے بعد میں ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ سماعت کے دوران نابالغ حاملہ بیوی نے اپنے شوہر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور اپنی رضامندی سے حاملہ ہوئی ہے۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں کسی نے اس پر زبردستی نہیں کی اور ان کے مذہبی قانون کے مطابق شادی درست ہے۔ تاہم عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کردیا۔

 

ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی کے بعد اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرکے اسے حاملہ کرنے والا شخص، چاہے وہ اس کا شوہر ہی کیوں نہ ہو، قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرے گا۔ عدالت نے کہا کہ دیگر ذاتی یا مذہبی قوانین POCSO کے تحت جرم سے تحفظ فراہم نہیں کرسکتے۔ عدالت نے ملزم کی ضمانت اور مقدمہ ختم کرنے کی دونوں درخواستیں مسترد کردیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button