’’الیکشن کمیشن مجھ سے غلط معلومات دینے کو کہہ رہا ہے‘‘ گوا کے ووٹر نے ہائی کورٹ سے رجوع کیوں کیا؟

نئی دہلی: گوا کے سانتا کروز علاقے کے رہنے والے 41 سالہ پریش سالگاؤںکر نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بنچ سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی ایس آئی آر سے متعلق متعدد قانونی اور انتظامی مسائل کو چیلنج کرتے ہوئے عرضی دائر کی ہے۔
بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے سماعت کے دوران اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ قواعد کو کس طرح معطل کیا گیا اور یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایسے کتنے لوگ ہوں گے جو عدالت سے رجوع نہیں کر پائے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اہل ووٹر انتخابی فہرست سے باہر نہ رہ جائیں۔
پریش سالگاؤںکر کا کہنا ہے کہ وہ صرف جھوٹا اعلان نہیں کرنا چاہتے تھے جبکہ موجودہ نظام مبینہ طور پر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ان کے مطابق گوا میں ان کے خاندان کے چھ افراد کے نام ریاست کی حتمی ووٹر فہرست سے خارج ہوگئے کیونکہ SIR کے دوران پتے کی تبدیلی کے لیے جمع کرائے گئے فارم 8 مسترد کردیئے گئے تھے۔ سالگاؤںکر کا کہنا ہے کہ وہ 2003 سے پنچایت ریاستی اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں ووٹ دیتے آرہے ہیں۔
ان کا الزام ہے کہ ایسے معاملات میں الیکشن کمیشن شہریوں سے فارم 6 جمع کرانے پر زور دے رہا ہے حالانکہ یہ نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایسا کرنا غلط معلومات یا غلط اعلان دینے کے مترادف ہوگا۔پریش اور ان کے خاندان نے آٹھ سال سے زیادہ عرصہ قبل نارتھ گوا حلقے کے اندر ہی اپنے پرانے مکان، جو پارٹ نمبر 29 میں تھا ،سے دوسرے مکان، جو پارٹ نمبر 25 میں واقع ہے، منتقل ہوئے تھے۔
گزشتہ سال نومبر میں جب انہیں معلوم ہوا کہ SIR کے لیے گھر گھر معلومات جمع کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے تو انہوں نے اپنے سابق وارڈ کے بوتھ لیول آفیسر (BLO) سے رابطہ کیا۔ان کے مطابق BLO نے بتایا کہ چونکہ خاندان اب پرانے پتے پر نہیں رہتا اس لیے انیومریشن مرحلے کے دوران پتے کی تبدیلی کے لیے درخواست دینی ہوگی۔سالگاؤںکر کے مطابق، 12 نومبر 2025 کو انہوں نے نئے وارڈ کے BLO سے رابطہ کیاجس نے انہیں پتے کی تبدیلی کے لیے فارم 8 جمع کرانے کو کہا۔
انہوں نے اور خاندان کے دیگر افراد نے فارم جمع کرائے۔ BLO نے مبینہ طور پر بتایا کہ یہ فارم 8 دسمبر کو الیکشن کمیشن کے پورٹل پر اپ لوڈ کردیئے گئے ہیں اور کارروائی کے لیے آگے بھیج دیے گئے ہیں۔سالگاؤںکر کے مطابق، الیکشن کمیشن نے SMS کے ذریعے ان کی درخواستیں موصول ہونے کی تصدیق بھی کی۔ تاہم 16 دسمبر کو جب ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہوئی تو ان کا اور ان کے خاندان کا نام اس میں موجود نہیں تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں BLOs سے رابطہ کرنے پر انہیں فکر نہ کرنے کو کہا گیا اور بتایا گیا کہ چونکہ فارم 8 کی آن لائن پورٹل کے ذریعے تصدیق ہوچکی ہے، اس لیے پتے کی تبدیلی کو حتمی ووٹر فہرست میں شامل کرلیا جائے گا لیکن 21 جنوری کو دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد انہیں ایک خودکار اطلاع موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) نے ان کے فارم 8 مسترد کردیئے ہیں۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ فارموں کی پروسیسنگ 27 اکتوبر 2025 کو ہی روک دی گئی تھی۔
سالگاؤںکر کے مطابق، حکام نے انہیں بتایا کہ مکان تبدیل کرنے کی وجہ سے ان کا EPIC ریکارڈ حذف ہوگیا تھا اور اب فارم 8 پر کارروائی ممکن نہیں تھی۔ انہیں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ واحد راستہ فارم 6 جمع کرانا ہے، کیونکہ ECI کے سافٹ ویئر ERONET میں حذف شدہ EPIC کو بحال کرنے کا آپشن موجود نہیں تھا۔
فروری 2026 میں حتمی ووٹر فہرست جاری ہوئی، لیکن ان کے اور خاندان کے دیگر افراد کے نام اس میں بھی شامل نہیں تھے۔اس کے بعد سالگاؤںکر نے الیکشن کمیشن کے نیشنل گریوینس سروس پورٹل اور چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) کے دفتر میں شکایت درج کرائی تاکہ فارم 8 مسترد کیے جانے کی وضاحت حاصل کی جاسکے۔ان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ سسٹم EPIC ریکارڈ بحال نہیں کرپارہا کیونکہ ان کا نام Absent, Shifted, Duplicate, Dead (ASDD) ووٹرز کی فہرست میں شامل کرکے حذف کردیا گیا تھا۔سالگاؤںکر کا کہنا ہے، ’’مجھے نہیں معلوم میری غلطی کیا ہے۔‘‘
ان کے مطابق فارم 6 میں ایسا اعلان شامل ہے جو نئے ووٹروں کے اندراج سے متعلق ہے اسی لیے انہوں نے اسے جمع نہیں کرایا کیونکہ ان کے بقول یہ ان کے لیے غلط اعلان ہوگا۔انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کسی شہری کا نام بغیر نوٹس یا سماعت کے حذف کرنے کا اختیار کس بنیاد پر دیا گیا اور کہا کہ محض سسٹم کی خامی کی وجہ سے کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔اس کے بعد سالگاؤںکر نے نارتھ گوا کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور چیف الیکٹورل آفیسر کے پاس اپیل دائر کی۔
ان کے مطابق اس مرتبہ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کے فارم 8 اس لیے مسترد ہوئے کیونکہ انیومریشن مرحلے کے دوران پتے کی تبدیلی کی سہولت روک دی گئی تھی۔سالگاؤںکر نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ سہولت روک دی گئی تھی تو عوام کو اس بارے میں پہلے کیوں نہیں بتایا گیا اور ایسے افراد کے لیے کیا طریقہ کار تھا جو انیومریشن کے دوران اپنا گھر تبدیل کرچکے تھے۔
آخرکار انہوں نے مئی 2026 میں بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بنچ سے رجوع کیا۔



