نیشنل

سونا چاندی خریدنا اب اور مہنگا – حکومت نے اچانک بڑھا دی امپورٹ ڈیوٹی، عوام کو کفایت شعاری کا مشورہ

نئی دہلی –  حکومت ہند نے سونے، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے نئی شرحوں کا اعلان کردیا ہے۔ وزارتِ فینانس کی جانب سے چہارشنبہ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرحیں 13 مئی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔

 

مرکزی حکومت نے سونے اور چاندی کی درآمد پر 10 فیصد بنیادی کسٹم ڈیوٹی اور 5 فیصد ایگریکلچر انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس (AIDC) عائد کیا ہے، جس کے بعد ان پر مؤثر درآمدی ٹیکس 6 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد ہوگیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد قیمتی دھاتوں کی بیرونی خریداری کو کم کرنا اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے دباؤ کو قابو میں رکھنا بتایا جا رہا ہے۔

 

متحدہ عرب امارات سے مقررہ کوٹہ سسٹم کے تحت درآمد کیے جانے والے سونے پر بھی رعایتی ڈیوٹی ختم کرتے ہوئے درآمدی محصول میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

 

محکمہ سیلس ٹیکس کی جانب سے کسٹمز ایکٹ کے تحت جاری اس نوٹیفکیشن میں 2018 اور 2021 کے سابقہ کسٹم نوٹیفکیشنز میں ترمیم کی گئی ہے۔

 

حکومت نے زیورات کی تیاری میں استعمال ہونے والے چھوٹے پرزہ جات، جیسے ہُکس، کلیمپس، پنز اور اسکرو بیکس پر بھی ڈیوٹی میں تبدیلی کی ہے۔ اب سونے اور چاندی کے ان پرزوں پر 5 فیصد جبکہ پلاٹینم پرزوں پر 5.4 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی۔

 

اسی طرح قیمتی دھاتوں کی ری سائیکلنگ کے لیے استعمال ہونے والے اسپنٹ کیٹالسٹس اور راکھ کی درآمد پر رعایتی کسٹم ڈیوٹی 4.35 فیصد مقرر کی گئی ہے، تاہم اس کے لیے مخصوص شرائط پر عمل ضروری ہوگا۔

 

دوسری جانب مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ اتوار کو حیدراباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے پوئے عوام سے کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیل کی تھی انہوں نے سونے کی خریداری مؤخر کرنے، غیر ضروری بیرونِ ملک سفر کم کرنے اور ایندھن کا محتاط استعمال کرنے کا مشورہ دیا تاکہ معیشت کو ممکنہ بحران سے بچایا جا سکے۔

 

اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 کے دوران ہندوستان کی سونے کی درآمدات میں 24 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ ریکارڈ 71.98 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 58 ارب ڈالر تھی۔

 

اگرچہ مالیت کے لحاظ سے درآمدات بڑھی ہیں، لیکن وزن کے اعتبار سے سونے کی درآمد 4.76 فیصد کم ہوکر 721.03 ٹن رہی۔ ہندوستان، چین کے بعد دنیا میں سونے کا دوسرا سب سے بڑا صارف ملک ہے، جہاں زیورات کی صنعت میں اس کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔

 

وزارتِ فینانس کے مطابق سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کے باعث درآمدی بل میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مالی سال 2025 میں سونے کی قیمت 76,617 ڈالر فی کلو تھی جو 2026 میں بڑھ کر تقریباً 99,825 ڈالر فی کلو تک پہنچ گئی۔ دہلی میں اس وقت سونے کی قیمت تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے فی 10 گرام کے آس پاس چل رہی ہے۔

 

ماہرین کے مطابق قیمتی دھاتوں کی بڑھتی درآمدات سے ہندوستان کے تجارتی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (CAD) پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے مطابق دسمبر سہ ماہی میں ملک کا CAD بڑھ کر 13.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

 

اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی کل درآمدات میں سونے کا حصہ 9 فیصد سے زیادہ ہے۔ سوئٹزرلینڈ تقریباً 40 فیصد حصے کے ساتھ ہندوستان کو سونا فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات دوسرے اور جنوبی افریقہ تیسرے نمبر پر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button