کانس فلم فیسٹیول میں گونجے گی دکن کی تہذیب – محمد علی بیگ کی فلم ’چاند تارا‘ عالمی اسکرین پر حیدرآباد کی شان پیش کرے گی
معروف تھیٹر شخصیت اور پدم شری ایوارڈ یافتہ محمد علی بیگ اپنی پہلی فیچر فلم ’’چاند تارا‘‘ کے ساتھ کانس فلم فیسٹیول 2026 میں شرکت کرنے جا رہے ہیں۔ 18 مئی کو فلم کے بین الاقوامی ٹریلر کی نمائش کانس میں ہوگی، جسے حیدرآباد اور دکنی تہذیب کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
فلم ’’چاند تارا‘‘ قطب شاہی دور، سلطان عبداللہ قطب شاہ اور تارامتی کی داستان پر مبنی ہے، جس میں حیدرآباد کی تاریخی تہذیب، موسیقی، شاعری اور فن تعمیر کو شاندار انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
فلم میں انوپم کھیر کی آواز، موہن آگاشے، رنجنا سریواستو اور راشمی سیٹھ کی اداکاری شامل ہے، جبکہ محمد علی بیگ خود سلطان عبداللہ قطب شاہ کے کردار میں نظر آئیں گے۔فلم کی موسیقی کارتھک الیاراجا نے ترتیب دی ہے جبکہ لکی علی اور واسندھرا داس نے اپنی آواز دی ہے۔ اس فلم کو تلنگانہ ٹورزم اور ایچ ایم ڈی اے کی بھی حمایت حاصل ہے
کانس میں فلم کے انتخاب پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے محمد علی بیگ نے کہا کہ عالمی سطح پر حیدرآبادی تہذیب اور ثقافت کی پذیرائی ان کے لیے انتہائی باعثِ مسرت ہے۔
فلم ’’چاند تارا‘‘ قطب شاہی دور کی شان و شوکت کو سلطان عبداللہ قطب شاہ اور معروف رقاصہ و گلوکارہ تارامتی کی داستان کے ذریعے پردۂ سیمیں پر پیش کرتی ہے۔ فلم میں قطب شاہی عہد کی شاہانہ زندگی، شاعری، موسیقی، فن تعمیر اور ثقافتی لطافت کو نہایت خوبصورتی سے دوبارہ تخلیق کیا گیا ہے۔
فلم کی ابتدا معروف اداکار انوپم کھیر کی آواز سے ہوتی ہے، جو دریائے موسیٰ کے کنارے آباد تاریخی حیدرآباد کا تعارف کراتے ہیں۔ فلم میں سینئر اداکار موہن آگاشے، اداکارہ رنجنا سریواستو بطور تارامتی، جبکہ حیدرآباد کی معروف تھیٹر آرٹسٹ راشمی سیٹھ حیات بخش بیگم کے کردار میں جلوہ گر ہیں۔
محمد علی بیگ خود سلطان عبداللہ قطب شاہ کا کردار ادا کر رہے ہیں، جس میں انہوں نے تاریخی شخصیت کو جذباتی گہرائی اور حقیقت کے قریب انداز میں پیش کیا ہے۔
فلم کی ایک بڑی خصوصیت قطب شاہی دور پر کی گئی باریک تحقیق ہے۔ ملبوسات، شاہی محلات کی آرائش، موسیقی، راگ، ساز اور رقص کی روایات کو تاریخی حقائق کے مطابق پیش کرنے کے لیے خصوصی محنت کی گئی ہے۔
محمد علی بیگ کے مطابق فلم میں دکنی تہذیب کی اصل روح کو محفوظ رکھنے پر خاص توجہ دی گئی تاکہ دنیا حیدرآباد اور قطب شاہی عہد کی فنّی عظمت کو قریب سے محسوس کر سکے





