27 لاکھ روپے لوٹنے والے دو نوجوان انکاونٹر میں ہلاک – غازی آباد کے سمیر اور زبیر منگل کو کیش ویان سے رقم لوٹ کر ہوئے تھے فرار
غازی آباد – اترپردیش کے غازی آباد میں 27 لاکھ روپے کی کیش وین لوٹنے والے دو بدنام زمانہ ملزمین سمیر اور زبیر پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے۔ دونوں پر ایک ایک لاکھ روپے کا انعام مقرر تھا، جبکہ زبیر کو اس واردات کا ماسٹر مائنڈ بتایا جا رہا ہے۔
یہ انکاؤنٹر ویو سٹی پولیس اسٹیشن علاقہ میں پیش آیا۔ ڈی سی پی سٹی دھول جیسوال کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ جرائم پیشہ افراد رات کے وقت کسی بڑی واردات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اطلاع کے بعد پولیس نے علاقے میں ناکہ بندی کی۔ اسی دوران ایک مشتبہ سوئفٹ کار نظر آئی۔ پولیس نے گاڑی روکنے کی کوشش کی تو ملزمین نے فائرنگ شروع کردی۔
فائرنگ کے دوران ایک سب انسپکٹر اور دو کانسٹیبل گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے بعد ملزمین گاڑی چھوڑ کر جنگل کی طرف فرار ہونے لگے۔ دونوں جانب تقریباً 20 منٹ تک 15 سے زائد راؤنڈ فائرنگ ہوئی، جس میں سمیر اور زبیر مارے گئے جبکہ دو دیگر ملزمین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کمشنر جے رویندر گوڑ کے مطابق چار ملزمین سوئفٹ کار میں سوار تھے۔ پولیس نے موقع سے 9 لاکھ 10 ہزار روپے نقد، دو پستول، دو دیسی تمچے اور ڈکیتی میں استعمال ہونے والی سوئفٹ کار برآمد کی ہے۔ ہلاک ہونے والے دونوں ملزمان وجئے نگر کے رہنے والے تھے۔ زخمی پولیس ملازمین کو ہاسپٹل منتقل کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 6 مئی کو 6 مسلح افراد نے کیش ویان کے ڈرائیور کو یرغمال بنا کر 27 لاکھ روپے لوٹ لیے تھے۔ بعد میں ملزمین واردات کے مقام سے تقریباً 8 کلومیٹر دور مسوری پولیس اسٹیشن علاقہ کے ایکسپریس وے پر کیش ویان چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔ ملزمین نے ثبوت مٹانے کے لیے کیش وین میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے اور ڈی وی آر کو کلہاڑی سے توڑ دیا تھا۔
اس معاملہ میں پولیس پہلے ہی محمد کیف اور محمد رضوان کو گرفتار کرچکی ہے۔ ان کے قبضے سے 8 لاکھ 6 ہزار روپے برآمد ہوئے تھے۔ محمد کیف پر 25 ہزار روپے کا انعام بھی مقرر تھا۔
پولیس کے مطابق زبیر وجئے نگر میں بانس اور بَلّی کی دکان چلاتا تھا جبکہ اس کا بھائی شعیب کپڑوں کی فیری اور بازار میں اسٹال لگاتا تھا۔ دونوں بھائیوں نے اپنے پڑوسی فیروز کو بھی واردات میں شامل کیا تھا، جو دکانوں پر کاسمیٹک سامان سپلائی کرتا ہے۔ دوسری جانب گرفتار ملزم محمد کیف کا بھائی سمیر کوئی باقاعدہ کام نہیں کرتا تھا۔
پولیس تحقیقات کے مطابق واردات مکمل ریکی کے بعد انجام دی گئی تھی۔ 6 مئی کی دوپہر کراسنگ ریپبلک علاقہ میں ایک ایچ پی پٹرول پمپ کے قریب انڈیا ون اے ٹی ایم بوتھ پر کمپنی کے چار ملازمین کیش ویان کے ذریعے رقم جمع کرانے پہنچے تھے۔ گارڈ اور دو ملازمین اے ٹی ایم میں رقم ڈالنے گئے جبکہ ڈرائیور تیج بھان وین میں موجود تھا۔ اسی دوران ملزمین نے دھاوا بول دیا اور اسلحہ دکھا کر ڈرائیور کو یرغمال بنا لیا۔
ڈرائیور نے مزاحمت کی کوشش کی تو ملزمین نے ہوا میں فائرنگ کی اور اسے بندوق کے بٹ سے مارا۔ خوفزدہ ڈرائیور کے بعد ملزمین کیش ویان لے کر فرار ہوگئے۔ تقریباً دو گھنٹے بعد پولیس نے وین برآمد کرلی، مگر اس میں رقم موجود نہیں تھی۔
ابتدائی تفتیش میں پولیس کو کیش وین کے ڈرائیور اور ملازمین پر بھی شبہ ہوا کیونکہ ان کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔ تاہم بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کے بعد واضح ہوا کہ واردات بیرونی ملزمان نے انجام دی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ملزمین شعیب اور فیروز کی تلاش کے لیے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور جلد انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ملزمین کی تلاش جاری ہے۔



