نیشنل

مساجد و مدارس کے انہدام اور مسلمانوں پر تشدد کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج -موجودہ و سابق ارکان پارلیمنٹ سمیت 50 سے زائد افراد حراست میں

نئی دہلی: ملک بھر میں مختلف مسلم تنظیموں کے سینئر عہدیداروں، موجودہ و سابق ارکان پارلیمنٹ اور نوجوان کارکنوں سمیت 50 سے زائد افراد کو منگل کے روز پولیس نے حراست میں لے لیا۔ یہ افراد جنتر منتر پر احتجاج کر رہے تھے۔ احتجاج کا مقصد گزشتہ چند برسوں کے دوران مساجد، مدارس اور دیگر مسلم املاک کے مسلسل انہدام کے ساتھ ساتھ مذہبی شناخت کی بنیاد پر انتہا پسند ہندو گروہوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کی مذمت کرنا تھا۔

 

حراست میں لیے گئے افراد کو مختلف پولیس اسٹیشنوں منتقل کیا گیا، تاہم بعد میں ان کے نام اور فون نمبر درج کرنے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ حراست میں لئے جانے والوں میں نوجوان خواتین کارکن بھی شامل تھیں۔

 

اس دوران یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ حراست میں لیے گئے افراد، جن میں موجودہ اور سابق ارکان پارلیمنٹ بھی شامل تھے، کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ تاہم پولیس نے وضاحت کی کہ کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی حراست میں لیے گئے کسی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

 

حراست میں لیے گئے موجودہ ارکان پارلیمنٹ میں سماج وادی پارٹی کے مولانا محب اللہ ندوی، اقرا حسن اور ضیاء الرحمن برق شامل تھے۔ سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کو بھی حراست میں لیا گیا۔

 

دیگر اہم افراد میں جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان بھی شامل تھے۔ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) کے قومی صدر عبدالحفیظ کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔

 

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کے جنرل سکریٹری ندیم خان کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وہ انڈین مسلمز فار سول رائٹس (IMCR) کی 51 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی کے اہم ارکان میں شامل ہیں، جس نے اس احتجاج کی اپیل کی تھی۔ ندیم خان کو صبح 9:30 بجے سے شام 5 بجے تک ان کے دفتر میں ہی نظر بند رکھا گیا اور انہیں پورے دن دفتر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن سمیت کئی اہم شخصیات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں ان کی نظر بندی کی مذمت کی۔

 

احتجاج کے دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور قانونی کارروائی کے بغیر مسلم مذہبی مقامات، مکانات، اسکولوں، مدارس اور مساجد کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کیے جانے کی سخت مذمت کی۔ مظاہرین نے ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے نام پر ملک بھر میں کروڑوں ووٹروں کے نام فہرستوں سے حذف کیے جانے پر بھی احتجاج کیا۔

 

اگرچہ پولیس نے احتجاج کی اجازت واپس لے لی تھی، تاہم بڑی تعداد میں مظاہرین احتجاجی مقام پر پہنچ گئے۔ منتظمین نے شکایت کی کہ پولیس دیگر تنظیموں کو احتجاج کرنے اور اپنے مسائل اٹھانے کی اجازت دے رہی ہے، لیکن مسلم تنظیموں کو مساجد اور دیگر مذہبی مقامات، حتیٰ کہ عیسائی برادری کے چرچوں کے مبینہ غیر قانونی انہدام جیسے سنگین مسائل پر احتجاج کرنے سے روکا جا رہا ہے، جو قانون کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

 

جماعت اسلامی ہند (JIH) کے قومی صدر سید سعادت اللہ حسینی بھی احتجاج میں شریک تھے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ کسی ایک مسجد یا کسی ایک برادری تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑا مسئلہ ہے۔

 

انہوں نے کہا، ’’جب کسی عبادت گاہ کو مناسب قانونی اور آئینی حقوق کا تحفظ فراہم کیے بغیر منہدم کیا جاتا ہے یا اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو اس سے قانون کی حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ مساجد اور چرچوں کو منتخب طور پر نشانہ بنانا فرقہ وارانہ محرکات کی عکاسی کرتا ہے اور ہماری ثقافت اور تہذیب پر ایک بدنما داغ ہے۔‘‘

 

گرفتاریوں کے حوالے سے انہوں نے کہا، ’’پولیس کی کارروائی انتہائی افسوسناک ہے۔ ہم مساجد اور دیگر عبادت گاہوں سے متعلق انہدام اور کارروائیوں کے خلاف قانونی اور جائز خدشات اٹھا رہے تھے۔ شہریوں کو پرامن طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کا موقع دینے کے بجائے کمیونٹی کے رہنماؤں اور مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس طرح کی من مانی کارروائی جمہوری حقوق اور آئینی آزادیوں کے احترام پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ ہم اس کارروائی کی مذمت کرتے ہیں اور جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘

 

سابق رکن پارلیمنٹ اور انڈین مسلمز فار سول رائٹس (IMCR) کے صدر محمد ادیب نے کہا، ’’ہم نے پروگرام کے بارے میں حکام کو پہلے ہی اطلاع دے دی تھی اور ہمارا مقصد پرامن احتجاج کرنا تھا۔ شہریوں کو اپنے خدشات اٹھانے سے روکنا اور کمیونٹی کے رہنماؤں کو گرفتار کرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ پرامن جمہوری احتجاج بنیادی حق ہے اور حکام کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘

 

لوک سبھا کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے کہا، ’’پرامن عوامی احتجاج کو خطرہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ شہریوں کو ایک ساتھ جمع ہوکر اپنے مسائل اور خدشات اٹھانے کا حق ہے۔ حکام کو لوگوں کو بولنے سے روکنے کے بجائے ان کی بات سننی چاہیے۔‘‘

 

منتظمین نے کہا کہ مجوزہ احتجاج صرف مسلمانوں سے متعلق مسائل تک محدود نہیں تھا۔ مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد مذہبی مقامات پر حملوں اور انہدام کے واقعات کے ساتھ ساتھ ملک کے وسیع تر قومی، سماجی اور سیاسی مسائل پر اپنی تشویش ظاہر کرنے کے لیے ایک ساتھ جمع ہوئے تھے۔

 

منتظمین کے مطابق احتجاج کے ذریعے ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR)، الیکشن کمیشن کے مجموعی طریقۂ کار اور نوجوانوں و سماج سے متعلق مسائل کی جانب بھی توجہ مبذول کرانا مقصود تھا۔

 

منتظمین نے کہا کہ پولیس کی کارروائی اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ حکام کو مجوزہ پروگرام کے بارے میں پہلے ہی مطلع کیا جاچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ پلیٹ فارم آئینی حقوق، مذہبی آزادی، جمہوری جواب دہی اور سماجی انصاف سے متعلق مسائل کو پرامن اور قانونی طریقے سے اٹھاتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button