ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن گھِرا سوالوں میں – گیانیش کمار کے خلاف دائر درخواست پر سپریم کورٹ اگلے ہفتے کرے گی سماعت

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے منگل کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقۂ کار کو چیلنج کرنے والی اور ملک گیر سطح پر ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر آئندہ ہفتے سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔
یہ درخواست ایسے وقت میں دائر کی گئی ہے جب ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ووٹر لسٹوں کی SIR سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات درج کئے۔ دونوں کمشنروں کا کہنا تھا کہ بعض فیصلے ان کے علم یا سفارش کے بغیر کئے گئے۔
تاہم الیکشن کمیشن نے کہا کہ سندھو اور جوشی کی جانب سے کابینی سکریٹری کو بھیجے گئے خطوط ڈیپوٹیشن پر تعینات ایک افسر سے متعلق تھے اور ان کا پالیسی یا آئی ٹی ڈویژن کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
درخواست گزار راکیش کمار سنگھ کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی تین رکنی بنچ سے معاملے کی جلد سماعت کی درخواست کی۔
وکیل نے کہا کہ کثیر رکنی الیکشن کمیشن کا مقصد ہی یہ ہے کہ فیصلے اتفاق رائے یا اکثریت کی بنیاد پر کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اس پورے SIR عمل کے بارے میں سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ آیا یہ واقعی الیکشن کمیشن کا متفقہ فیصلہ تھا یا نہیں۔
وکاس سنگھ نے مزید کہا کہ اگر کمیشن نے متفقہ فیصلہ نہیں کیا تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور انہوں نے صرف درخواست کی کہ کیس کی سماعت کے لئے جلد تاریخ مقرر کی جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے معاملے کو آئندہ ہفتے فہرست میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔
درخواست میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سندھو و جوشی کے درمیان مبینہ اختلافات اور ان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 324(1) کے تحت انتخابات کی نگرانی، ہدایت اور کنٹرول کے اختیارات کسی ایک چیف الیکشن کمشنر کو نہیں بلکہ پورے الیکشن کمیشن کو حاصل ہیں۔
وکیل وکاس سنگھ نے نشاندہی کی کہ آرٹیکل 324(2) کے مطابق الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ صدر جمہوریہ کی جانب سے مقرر کردہ دیگر الیکشن کمشنر بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ آرٹیکل 324(3) میں کہا گیا ہے کہ دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کی صورت میں چیف الیکشن کمشنر کمیشن کے چیئرمین ہوں گے۔



