نیشنل

اجین میں شاہی مسجد کے حصہ کو مہندم کرنے کے فیصلہ پر ہنگامہ – پتھراؤ اور آنسو گیس کی اطلاع

مدھیہ پردیش کے اجین شہر میں شاہی مسجد کا کچھ حصہ ہٹانے کے خلاف پیر کو شدید احتجاج ہوا۔ پولیس کا الزام ہے کہ ہجوم میں شامل بعض افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا، جس کے بعد پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے۔

 

اسی دوران مسلم خواتین نے سڑک پر دھرنا دے کر راستہ بند کردیا۔ خواتین کو ہٹانے کی کوشش کے دوران کرائم برانچ کی تھانہ انچارج پشپا پانچال کے ہاتھ میں چوٹ لگ گئی۔

 

شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے کے معاملے پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بینچ میں پیر کو سماعت بھی مقرر ہے۔

 

اجین میں 2028 کے سنگھستھ میلے کے پیش نظر کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک 900 میٹر سڑک کو 15 میٹر چوڑا کیا جارہا ہے۔ اس منصوبہ کی زد میں آنے والی عمارتوں کو ہٹایا جارہا ہے، جس میں شاہی مسجد کا کچھ حصہ بھی شامل ہے۔

 

پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران بعض نوجوانوں نے  پتھراؤ کیا، جس کے بعد آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ آئی جی، ڈی آئی جی، کمشنر، کلکٹر اور ایس پی سمیت اعلیٰ افسران بھی موقع پر موجود ہیں۔

 

پولیس کے مطابق خواتین کو ہٹانے کے دوران  پولیس انچارج پشپا پانچال کے ہاتھ پر کٹ لگ گیا۔ انہیں ابتدائی طبی امداد دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پولیس کی معمول کی امن و امان کی ڈیوٹی کا حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button