“میری نعش کتوں کو ڈال دیں” خودکشی کرنے والے نوجوان کی آخری وصیعت

حیدرآباد: آندھرا پردیش کے ضلع نندیال کے پونّا پورم میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ ایک نوجوان نے ٹرین کے آگے چھلانگ لگاکر خودکشی کر لی۔تفصیلات کے مطابق، اللہ گڈہ منڈل کے پڈاکنڈلا گاؤں سے تعلق رکھنے والے
چرنجیوی نامی نوجوان نے ٹرین کے سامنے چھلانگ اپنی جان دے دی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، مقدمہ درج کیا اور تحقیقات شروع کر دیں۔نوجوان کی پتلون کی جیب سے ایک سوسائیڈ نوٹ ملا جس نے مقامی لوگوں کو غمزدہ کر
دیا۔ اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندگی سے بے حد مایوس تھا اور اسے اس بات کا شدید دکھ تھا کہ وہ اپنے والدین کے لیے بوجھ بن گیا ہے۔سوسائیڈ نوٹ میں اس نے لکھا“میرے پاس مناسب آمدنی نہیں تھی، اس لیے میں اپنے والدین
کے کسی کام نہ آ سکا۔ میری وجہ سے کوئی پریشان نہ ہو۔ میں اپنی زندگی میں کچھ حاصل نہیں کر پایا۔ میرے والدین نے لاکھوں روپے قرض لے کر مجھے زندہ رکھا لیکن میں ان پر بوجھ بن گیا۔ میری نعش انہیں دے کر مزید تکلیف نہ دی
جائے۔ چاہے کتوں کو ڈال دیں یا کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیں۔ یہی میری آخری خواہش ہے۔”بتایا جاتا ہے کہ چرنجیوی کے باپ منیا کی اس سے پہلے چار اولادیں فوت ہو چکی تھیں۔ چرنجیوی ان کی پانچویں اولاد تھا اور وہ بھی پیدائشی
طور پر بیمار پیدا ہوا تھا۔ والدین نے لاکھوں روپے خرچ کر کے اس کا علاج کروایا اور اسے زندہ رکھا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد چرنجیوی نندیال کی این جی او کالونی میں الیکٹریشن کے طور پر کام کر کے زندگی گزار رہا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ اس
نے بچپن سے ہی کئی مشکلات اور تکالیف کا سامنا کیا۔فی الحال یہ سوسائیڈ نوٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس پر صارفین کا کہنا ہے کہ یہ خط اس اذیت اور
ذہنی کرب کو ظاہر کرتا ہے جس سے نوجوان اس وقت گزرتے ہیں جب ایک عمر گزرنے کے بعد بھی وہ زندگی میں خود کو صحیح طور پر مستحکم نہیں کر پاتے۔
اسی لیے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر دوستوں والدین یا قریبی افراد کو اپنے خاندان کے کسی نوجوان میں ڈپریشن یا مایوسی کی علامات نظر آئیں تو انہیں نظر انداز نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ
کر بات کریں ان کی بات سنیں اور انہیں ذہنی و جذباتی سہارا دیں۔



