دولہا ہو تو ایسا! نہ جہیز اور نہ دعوت؛ آسٹریلیا سے حیدرآباد آیا، سنت کے مطابق سادگی سے نکاح کیا

حیدرآباد میں ایک تبدیلی جو دیکھنے میں آرہی ہے وہ یہ کہ تعلیم یافتہ طبقہ سنت کے مطابق سادگی سے شادی کرنے کی طرف مائل ہے، اور اس کے برخلاف کم تعلیم یافتہ طبقہ جہیز، بارات کے کھانوں اور دھوم دھام سے منگنیوں میں اسراف کرنے کی طرف مائل ہے۔ ایک مثالی شادی 27 سپٹمبر 2026 کوراجندرنگر مسجد عمرفاروقؒ میں دیکھنے میں آئی۔
نوشہ تقی الدین قادری عرف دانش انجینئر مقیم آسٹریلیا ولد جناب عظیم الدین قادری مقیم ریاض کا نکاح منعقد ہوا جس میں نہ شادی کے دن کا کھانا تھا، نہ رسمی حلیم یا چائے تھی، اور نہ جہیز یا کوئی اور خرافات۔ دلہن کے والد جناب انجینئر شہباز صاحب شہر کے معروف بِلڈرس میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ اور ان کی اہلیہ سوشیوریفارمس سوسائٹی کے متحرک ارکان ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی اتنی سادگی سے شادی کرکے ایک مثال قائم کی۔ شرکت کرنے والوں میں ایم ایل اے جناب معراج حسین، ڈاکٹرعلیم خان فلکی، عبدالقدیر جاوید جدہ، وغیرہ بھی شامل تھے۔
نوشہ نے خصوصی انٹرویو میں ہر نوجوان کو دعوتِ فکر دی کہ سادگی سے شادی نہ صرف ایک عظیم سنّت کو زندہ کرتی ہے بلکہ قوم کو خوشحالی اور برکت بھی عطا کرتی ہے۔




